اگرچہ حادثے گزرے ہیں پانیوں کی طرح

Kaif Ansari

اگرچہ حادثے گزرے ہیں پانیوں کی طرح

خموش رہ گئے ہم لوگ ساحلوں کی طرح

کسی کے سامنے میں کس لیے زباں کھولوں

ملی ہے اپنی انا مجھ کو دشمنوں کی طرح

ترے بغیر نظر آئے ہیں مجھے اکثر

مکان کے در و دیوار قاتلوں کی طرح

نہ جانے کون سی منزل کو چل دیے پتے

بھٹک رہی ہیں ہوائیں مسافروں کی طرح

ہمیں نے کھول کے لب روح پھونک دی ورنہ

تمام حرف تھے بے جان پتھروں کی طرح

میں رو رہا تھا شب غم کی ظلمتوں سے بہت

خدا کا شکر جلے زخم مشعلوں کی طرح

یہی تو کیفؔ حسد ہے کہ دل بھی یاروں کے

سیاہ ہو گئے لکھے ہوئے خطوں کی طرح