دوستوں نے یہ گل کھلایا تھا
Laiq Akbar sahaabدوستوں نے یہ گل کھلایا تھا
ہاتھ دشمن سے جا ملایا تھا
آستینوں میں سانپ پالے تھے
دودھ خود ہی انہیں پلایا تھا
زخم کاری بہت لگا دل پر
تیر اپنوں نے اک چلایا تھا
برق مانگی نہیں فلک تجھ سے
ہم نے خرمن کو خود جلایا تھا
دل کو زخموں سے چور ہونا تھا
عشق کی راہ پر چلایا تھا
پوچھتے ہو دھواں ہیں کیوں آنکھیں
جاں کی بستی میں دل جلایا تھا
میں تو بھولا نہیں سحابؔ اس کو
اس نے کیسے مجھے بھلایا تھا