جو مزا اپنے یار میں دیکھا

Naeem Dehlavi

جو مزا اپنے یار میں دیکھا

نہ کہو وہ بہار میں دیکھا

خواب میں شب کو سرو دیکھا تھا

صبح تجھ کو کنار میں دیکھا

نہ کہو ہم نے دیکھا بسمل میں

جو دل بے قرار میں دیکھا

وصل نے یہ مزا کہاں پایا

لطف جو انتظار میں دیکھا

لطف گلزار و لالہ باغ نعیمؔ

سینۂ داغدار میں دیکھا