آج انہیں دیکھ لیا بزم میں فرزانوں کی

Habab Tirmizi

آج انہیں دیکھ لیا بزم میں فرزانوں کی

ہم نے تعریف سنی تھی ترے دیوانوں کی

دیدہ ور سلسلۂ اشک سمجھتے ہیں جسے

کہکشاں ہے مرے محبوب کے احسانوں کی

تم کو آنا ہے تو آ جاؤ اجالا ہے ابھی

شمعیں روشن ہیں مرے غم کے شبستانوں کی

معترض ہیں مری دیوانہ وشی پر وہ لوگ

جن کو دامن کی خبر ہے نہ گریبانوں کی

ہم ہیں میخانۂ فطرت کے شرابی ہم کو

نہ صراحی کی ضرورت ہے نہ پیمانوں کی

ہنس رہے ہو تو ہنسو اور ہنسو خوب ہنسو

حالت زار پہ ہم بے سر و سامانوں کی

عہد حاضر کے نئے میرؔ وہاں ہوں گے حبابؔ

مجھ کو محفل میں نہ لے جاؤ سخن دانوں کی