صنم کے ہجر کا بیمار میں ہوں
میراں شاہ جالندھریصنم کے ہجر کا بیمار میں ہوں
اسی کے عشق میں سرشار میں ہوں
رخ دلبر ہے روشن ماہ تاباں
چکوری کی طرح بیدار میں ہوں
لئے پھرتا ہوں ہاتھوں پر سر اپنا
نظر دلبر سر بازار میں ہوں
غلام خاک پا مخدوم صابر
فدائے جاں سگ دربار میں ہوں
بلا لو یا علاء الدین مجھ کو
تیرے روضے کا اک زوار میں ہوں
کوئی مونس نہ ہمدم آشنا ہے
یہ فرماؤ ترا غم خوار میں ہوں