بے نام آوارہ پودوں

Jabbar Jameel

بے نام آوارہ پودوں

آزردہ اشجار

بہمنی تاجداروں کے ابدی مساکن سے ملحق

نوحہ کناں پتھروں کی یہ چھوٹی سی بستی

ابابیلیں جس کی محافظ

دل شکستہ دلوں دل گرفتہ شبوں کے گلو گیر لمحے جس کے ہمراز

تو جہاں تیس بتیس برسوں سے رہتی چلی آ رہی ہے

کیا واقعی اس قدر پر سکوں تو یہاں ہے

میں تری کوکھ کی فصل کا ایک پودا

تیری شفقت کا جھرنا کہاں ہے

تاج کتبہ کا سر پہ اٹھائے ہوئے

تو بھی کم کیا کسی تاجور سے ہے ماں

میرے دامن کو لیکن ذرا دیکھ لے

مجھ سے انفاس کا لے حساب

زندگی کی لڑائی میں نصرت ملی کن مقامات پر

اور کہاں میں نے پائی شکست

کس نفس ظلمتوں کے پڑاؤ ملے

کس نفس چاہتوں کو ندامت ملی

کس نفس خواہشوں کے جنازے اٹھے

کس نفس دل جلا

کس نفس میرے جذبوں کی میراث گم ہو گئی

میرے احساس کی ایک اک پنکھڑی

کس نفس بک گئی

نیم شب کی خموشی کے جنگل میں میری نوا کے پرند

آج پہلی دفعہ

تیرے مسکن کی بوجھل فضاؤں میں مضروب اڑتے ہیں

ان کا درماں سماعت تری ہو تو ہو

میں تو دامن دریدہ تہی دست ہوں