ان کے رخ پر حجاب رہتا ہے

Laiq Akbar sahaab

ان کے رخ پر حجاب رہتا ہے

جیسے مہ پر سحاب رہتا ہے

وصل کا جب سوال ہو ان سے

بس ''نہیں'' میں جواب رہتا ہے

پاس رہ کر بھی درمیاں اپنے

فاصلہ بے حساب رہتا ہے

حسن والوں سے جو وفا چاہے

اس کا خانہ خراب رہتا ہے

ہم سفر سوہنی سی ہو کوئی

میرے خوں میں چناب رہتا ہے

مثل طائر ہوا میں اڑتا ہوں

میری آنکھوں میں خواب رہتا ہے

ریگ صحرا انہیں نگلتی ہے

جن کی رہ میں سراب رہتا ہے

ماں کی جس کو دعائیں مل جائیں

عمر بھر کامیاب رہتا ہے

جانے کس خاک سے بنا ہوں میں

روح میں اضطراب رہتا ہے

الجھے رشتوں کی تلخ الجھن میں

الجھا الجھا سحابؔ رہتا ہے