Poetry

Poet
Meter
  1. ہر شعر غزل کا کہہ رہا ہےتجھ کو بھی بچھڑ کے دکھ ہوا ہےHafiz Ludhiyanvi
  2. ہے وجہہ سکون دل آشفتہ نوا بھیوہ آنکھ کہ ہے فتنۂ صد ہوشربا بھیHafiz Ludhiyanvi
  3. یارائے گفتگو نہیں آنکھوں میں دم نہیںیہ خامشی بھی عرض تمنا سے کم نہیںHafiz Ludhiyanvi
  4. احوال رنج بزم میں کہنا محال ہےکہتے ہیں خوب شعر کہا ہے کمال ہےMadhav Noor
  5. اسی لیے ہیں یہاں وسوسے بہت سارےمری زبان پہ ہیں ذائقے بہت سارےMadhav Noor
  6. جب تک یہ گھر میں قید تھی کتنا سکون تھااب ساتھ ساتھ چلتی ہے تنہائیاں مریMadhav Noor
  7. دیکھ کر پورے تماشے کو ہی گھر جائیں گےتری دنیا میں چند اک روز ٹھہر جائیں گےMadhav Noor
  8. گویا لٹوں کی ڈور سے باندھا ہوا ہے چانددیکھو سیاہ زلف میں کیسے پھنسا ہے چاندMadhav Noor
  9. میں انجان تھا جن سے ایسے جذبوں کی پہچان ہوئینورؔ بنا جو قوس قزح تو رنگوں کی پہچان ہوئیMadhav Noor
  10. ہے جما خون رگوں میں کہ رواں کچھ بھی نہیںتم سے یہ کس نے کہا ہے کہ وہاں کچھ بھی نہیںMadhav Noor
  11. اک نو بہار ناز کو مہماں کریں گے ہمہر داغ دل کو رشک گلستاں کریں گے ہممجید لاہوری
  12. تو نے جب بھی آنکھ ملائیدیدہ و دل پر آفت آئیمجید لاہوری
  13. جہاں کو چھوڑ دیا تھا جہاں نے یاد کیابچھڑ گئے تو بہت کارواں نے یاد کیامجید لاہوری
  14. حاذق الملک نہ کوئی بھی رہا میرے بعدکون دے گا تجھے کھجلی کی دوا میرے بعدمجید لاہوری
  15. زندگی سلسلۂ وہم و گماں ہے یارودل بے تاب کو تسکین کہاں ہے یارومجید لاہوری
  16. عید ملنے کا اک بہانہ ہواکاٹ کر جیب وہ روانہ ہوامجید لاہوری
  17. عید کا دنمجید لاہوری
  18. دکھا اے ناخن غم لطف باہم ایسے ساماں پرگریباں کا ہو منہ دامن پہ دامن کا گریباں پرمنشی خیراتی لال شگفتہ
  19. گر تعلی پر ہے وہم امتحان مے فروشبے نشاں ہو کر نکالیں گے نشان مے فروشمنشی خیراتی لال شگفتہ
  20. مضمون عشق ذہن ستم گر میں آ گیادریا سمٹ کے حلقۂ ساغر میں آ گیامنشی خیراتی لال شگفتہ
  21. نیم جاں ہوں زندگی دود چراغ کشتہ ہےمیری ہستی صورت بود چراغ کشتہ ہےمنشی خیراتی لال شگفتہ
  22. ہو اگر مد نظر گلشن میں اے گلفام رقصصورت بسمل دکھائے بلبل ناکام رقصمنشی خیراتی لال شگفتہ
  23. اس بت کو دل دکھا کے کلیجہ دکھا دیااسباب اپنی ذات کا سارا دکھا دیامنشی خیراتی لال شگفتہ
  24. مصرعے پہ ان کے مصرعۂ قد کا گماں ہوااک طبقہ بیت کا طبق آسمان ہوامنشی خیراتی لال شگفتہ
  25. سنتے ہی دل ہو گیا اس یار کا اسرار مستہوشیاری کیا کرے جب دل ہو سو سو بار مستمسکین شاہ
  26. کسی کا ایک ہے دشمن تو دوست دار ہے ایکہمارا ہجر عدو ایک وصل یار ہے ایکمسکین شاہ
  27. کل ہم سے ملاقات میں وہ یار جو کی بحثمیں بھی وہیں اک بات میں بیزار ہو کی بحثمسکین شاہ
  28. ماہ رو یاں ہزار کو دیکھاہم نے اب تک نہ یار کو دیکھامسکین شاہ
  29. میرا شاہد وہ ہمیں عیار آتا ہے نظرہم کو ہم پاتے نہیں جب یار آتا ہے نظرمسکین شاہ
  30. نہیں ہے مجھ کو اے جمشید تیرے جام سے کامجہاں نما ہے مجھے اپنے خوش خرام سے کاممسکین شاہ
  31. شمع روشن جسم فانوس خیالی میں ہے آجروح جوں مثل مگس مکڑوں کی جالی میں آجمسکین شاہ
  32. اس زمانے کے فریبوں سے بچا کوئی نہ تھامنزلیں تھیں سامنے پر راستہ کوئی نہ تھاRaazdan Raaz
  33. جس کا جی چاہے فقیروں کی دعا لے جائےکل ہمیں جانے کہاں وقت اٹھا لے جائےRaazdan Raaz
  34. درد ہوگا تو کیا برا ہوگاعشق کا قرض کچھ ادا ہوگاRaazdan Raaz
  35. دل کبھی بے وفا نہیں ہوتاوقت کا کچھ پتہ نہیں ہوتاRaazdan Raaz
  36. ساتھ کب تک نبھائے تنہائیوہ نہ آئے نہ موت ہی آئیRaazdan Raaz
  37. مدتوں سوچا کیا کہنے کو کچھپھر بھی مجھ سے کیا بنا کہنے کو کچھRaazdan Raaz
  38. یہ کائنات ہے کیا دشت کیا مکاں کیا ہےبس ایک جذبۂ تخلیق ہے جہاں کیا ہےRaazdan Raaz
  39. تمہیں ایسا بے رحم جانا نہ تھاغرض کیا کہیں دل لگانا نہ تھاراسخ عظیم آبادی
  40. دل زلف بتاں میں ہے گرفتار ہمارااس دام سے ہے چھوٹنا دشوار ہماراراسخ عظیم آبادی
  41. شیخ حرم اس بت کا پرستار ہوا ہےبت خانہ نشیں باندھ کے زنار ہوا ہےراسخ عظیم آبادی
  42. غفلت میں کٹی عمر نہ ہشیار ہوئے ہمسوتے ہی رہے آہ نہ بیدار ہوئے ہمراسخ عظیم آبادی
  43. کوئی حیران ہے یاں کوئی دلگیرکہے تو ہے یہ عالم بزم تصویرراسخ عظیم آبادی
  44. کیا کرے گا جا کے بیت اللہ تودل ہی سے کر اپنی پیدا راہ توراسخ عظیم آبادی
  45. ممنوں ہی رہا اس بت کافر کی جفا کاشکوہ نہ کیا دل نے کبھو شکر خدا کاراسخ عظیم آبادی
  46. بے سبب ہم سے وہ بیزار نظر آتے ہیںدکھ کے ہر چار سو انبار نظر آتے ہیںSabiha Khan
  47. جو اس کا کھیل تھا یا دل لگی تھیوہی میرے لئے دل کی لگی تھیSabiha Khan
  48. خواب آنکھوں میں سجانا بھی ضروری ٹھہرازندہ رہنے کا بہانہ بھی ضروری ٹھہراSabiha Khan
  49. خود کو اہل وفا سمجھتے ہیںاوروں کو بے وفا سمجھتے ہیںSabiha Khan
  50. کام ہے ان کا جفا وہ با وفا کہنے کو ہیںدیتے ہیں جو درد دل اہل شفا کہنے کو ہیںSabiha Khan