Poetry
Poet
Meter
- ہر شعر غزل کا کہہ رہا ہےتجھ کو بھی بچھڑ کے دکھ ہوا ہےHafiz Ludhiyanvi
- ہے وجہہ سکون دل آشفتہ نوا بھیوہ آنکھ کہ ہے فتنۂ صد ہوشربا بھیHafiz Ludhiyanvi
- یارائے گفتگو نہیں آنکھوں میں دم نہیںیہ خامشی بھی عرض تمنا سے کم نہیںHafiz Ludhiyanvi
- احوال رنج بزم میں کہنا محال ہےکہتے ہیں خوب شعر کہا ہے کمال ہےMadhav Noor
- اسی لیے ہیں یہاں وسوسے بہت سارےمری زبان پہ ہیں ذائقے بہت سارےMadhav Noor
- جب تک یہ گھر میں قید تھی کتنا سکون تھااب ساتھ ساتھ چلتی ہے تنہائیاں مریMadhav Noor
- دیکھ کر پورے تماشے کو ہی گھر جائیں گےتری دنیا میں چند اک روز ٹھہر جائیں گےMadhav Noor
- گویا لٹوں کی ڈور سے باندھا ہوا ہے چانددیکھو سیاہ زلف میں کیسے پھنسا ہے چاندMadhav Noor
- میں انجان تھا جن سے ایسے جذبوں کی پہچان ہوئینورؔ بنا جو قوس قزح تو رنگوں کی پہچان ہوئیMadhav Noor
- ہے جما خون رگوں میں کہ رواں کچھ بھی نہیںتم سے یہ کس نے کہا ہے کہ وہاں کچھ بھی نہیںMadhav Noor
- اک نو بہار ناز کو مہماں کریں گے ہمہر داغ دل کو رشک گلستاں کریں گے ہممجید لاہوری
- تو نے جب بھی آنکھ ملائیدیدہ و دل پر آفت آئیمجید لاہوری
- جہاں کو چھوڑ دیا تھا جہاں نے یاد کیابچھڑ گئے تو بہت کارواں نے یاد کیامجید لاہوری
- حاذق الملک نہ کوئی بھی رہا میرے بعدکون دے گا تجھے کھجلی کی دوا میرے بعدمجید لاہوری
- زندگی سلسلۂ وہم و گماں ہے یارودل بے تاب کو تسکین کہاں ہے یارومجید لاہوری
- عید ملنے کا اک بہانہ ہواکاٹ کر جیب وہ روانہ ہوامجید لاہوری
- عید کا دنمجید لاہوری
- دکھا اے ناخن غم لطف باہم ایسے ساماں پرگریباں کا ہو منہ دامن پہ دامن کا گریباں پرمنشی خیراتی لال شگفتہ
- گر تعلی پر ہے وہم امتحان مے فروشبے نشاں ہو کر نکالیں گے نشان مے فروشمنشی خیراتی لال شگفتہ
- مضمون عشق ذہن ستم گر میں آ گیادریا سمٹ کے حلقۂ ساغر میں آ گیامنشی خیراتی لال شگفتہ
- نیم جاں ہوں زندگی دود چراغ کشتہ ہےمیری ہستی صورت بود چراغ کشتہ ہےمنشی خیراتی لال شگفتہ
- ہو اگر مد نظر گلشن میں اے گلفام رقصصورت بسمل دکھائے بلبل ناکام رقصمنشی خیراتی لال شگفتہ
- اس بت کو دل دکھا کے کلیجہ دکھا دیااسباب اپنی ذات کا سارا دکھا دیامنشی خیراتی لال شگفتہ
- مصرعے پہ ان کے مصرعۂ قد کا گماں ہوااک طبقہ بیت کا طبق آسمان ہوامنشی خیراتی لال شگفتہ
- سنتے ہی دل ہو گیا اس یار کا اسرار مستہوشیاری کیا کرے جب دل ہو سو سو بار مستمسکین شاہ
- کسی کا ایک ہے دشمن تو دوست دار ہے ایکہمارا ہجر عدو ایک وصل یار ہے ایکمسکین شاہ
- کل ہم سے ملاقات میں وہ یار جو کی بحثمیں بھی وہیں اک بات میں بیزار ہو کی بحثمسکین شاہ
- ماہ رو یاں ہزار کو دیکھاہم نے اب تک نہ یار کو دیکھامسکین شاہ
- میرا شاہد وہ ہمیں عیار آتا ہے نظرہم کو ہم پاتے نہیں جب یار آتا ہے نظرمسکین شاہ
- نہیں ہے مجھ کو اے جمشید تیرے جام سے کامجہاں نما ہے مجھے اپنے خوش خرام سے کاممسکین شاہ
- شمع روشن جسم فانوس خیالی میں ہے آجروح جوں مثل مگس مکڑوں کی جالی میں آجمسکین شاہ
- اس زمانے کے فریبوں سے بچا کوئی نہ تھامنزلیں تھیں سامنے پر راستہ کوئی نہ تھاRaazdan Raaz
- جس کا جی چاہے فقیروں کی دعا لے جائےکل ہمیں جانے کہاں وقت اٹھا لے جائےRaazdan Raaz
- درد ہوگا تو کیا برا ہوگاعشق کا قرض کچھ ادا ہوگاRaazdan Raaz
- دل کبھی بے وفا نہیں ہوتاوقت کا کچھ پتہ نہیں ہوتاRaazdan Raaz
- ساتھ کب تک نبھائے تنہائیوہ نہ آئے نہ موت ہی آئیRaazdan Raaz
- مدتوں سوچا کیا کہنے کو کچھپھر بھی مجھ سے کیا بنا کہنے کو کچھRaazdan Raaz
- یہ کائنات ہے کیا دشت کیا مکاں کیا ہےبس ایک جذبۂ تخلیق ہے جہاں کیا ہےRaazdan Raaz
- تمہیں ایسا بے رحم جانا نہ تھاغرض کیا کہیں دل لگانا نہ تھاراسخ عظیم آبادی
- دل زلف بتاں میں ہے گرفتار ہمارااس دام سے ہے چھوٹنا دشوار ہماراراسخ عظیم آبادی
- شیخ حرم اس بت کا پرستار ہوا ہےبت خانہ نشیں باندھ کے زنار ہوا ہےراسخ عظیم آبادی
- غفلت میں کٹی عمر نہ ہشیار ہوئے ہمسوتے ہی رہے آہ نہ بیدار ہوئے ہمراسخ عظیم آبادی
- کوئی حیران ہے یاں کوئی دلگیرکہے تو ہے یہ عالم بزم تصویرراسخ عظیم آبادی
- کیا کرے گا جا کے بیت اللہ تودل ہی سے کر اپنی پیدا راہ توراسخ عظیم آبادی
- ممنوں ہی رہا اس بت کافر کی جفا کاشکوہ نہ کیا دل نے کبھو شکر خدا کاراسخ عظیم آبادی
- بے سبب ہم سے وہ بیزار نظر آتے ہیںدکھ کے ہر چار سو انبار نظر آتے ہیںSabiha Khan
- جو اس کا کھیل تھا یا دل لگی تھیوہی میرے لئے دل کی لگی تھیSabiha Khan
- خواب آنکھوں میں سجانا بھی ضروری ٹھہرازندہ رہنے کا بہانہ بھی ضروری ٹھہراSabiha Khan
- خود کو اہل وفا سمجھتے ہیںاوروں کو بے وفا سمجھتے ہیںSabiha Khan
- کام ہے ان کا جفا وہ با وفا کہنے کو ہیںدیتے ہیں جو درد دل اہل شفا کہنے کو ہیںSabiha Khan