جب تک یہ گھر میں قید تھی کتنا سکون تھا

Madhav Noor

جب تک یہ گھر میں قید تھی کتنا سکون تھا

اب ساتھ ساتھ چلتی ہے تنہائیاں مری

آہ و فغاں بھی رائیگاں ہے ان کے شور میں

دشمن بنی ہوئی ہے یہ شہنائیاں مری

ایک آفتاب مطلع دل پر ہوا طلوع

قوس قزح میں چھپ گئیں پرچھائیاں مری

پہرا ہٹے جو ان کا تو میں کھل کے سانس لوں

چھوڑیں گی کب اکیلا یہ تنہائیاں مری

ہر صبح جاگتے ہوئے میں سوچتا ہوں نورؔ

کہتی ہے کچھ نہ کچھ تو یہ انگڑائیاں مری