گویا لٹوں کی ڈور سے باندھا ہوا ہے چاند
Madhav Noorگویا لٹوں کی ڈور سے باندھا ہوا ہے چاند
دیکھو سیاہ زلف میں کیسے پھنسا ہے چاند
پونم کے بعد دیکھا نہیں سات دن اسے
میں نے سنا ہے روٹھ کر آدھا ہوا ہے چاند
پہلے جمال و نور کی باتوں میں گم ہوا
پھر داغ داغ سن کے سسکنے لگا ہے چاند
بھولے کے سر پہ بھی یہی گنبد پہ بھی یہی
تو کیوں سیاستوں میں الجھنے لگا ہے چاند
اماں کھڑی ہے پاس میں تھالی پروس کر
برسوں کے بعد پھر مرا ماما بنا ہے چاند