کام ہے ان کا جفا وہ با وفا کہنے کو ہیں
Sabiha Khanکام ہے ان کا جفا وہ با وفا کہنے کو ہیں
دیتے ہیں جو درد دل اہل شفا کہنے کو ہیں
ہم تو سمجھے تھے وہ ساحل پر اتاریں گے ہمیں
ڈال دی ناؤ بھنور میں نا خدا کہنے کو ہیں
فاصلوں سے کم نہ ہوں گے روح کے رشتے کبھی
وہ ہمیشہ دل میں ہیں دل سے جدا کہنے کو ہیں
منفرد ان کی محبت منفرد ان کی وفا
دوریاں رکھتے ہیں پھر بھی ہم نوا کہنے کو ہیں
ان کی اک ابرو کی جنبش بھی سخن ور ہے بہت
ہے زباں بھی ان کے منہ میں مدعا کہنے کو ہیں
دوسروں کو راستہ دکھلائیں گے وہ کس طرح
راہ گم کردہ ہیں خود اور رہنما کہنے کو ہیں
ہو گئی ہے آگہی ان سے صبیحہؔ اس قدر
جان لیتی ہوں میں اتنا اب وہ کیا کہنے کو ہیں