Poetry
Poet
Meter
- میرا غم میرے خیالات ہی سب کچھ تو نہیںان کی محفل میں مری بات ہی سب کچھ تو نہیںUma Shankar Shadan Gwaliori
- وفا کے لطف محبت کے خواب مانگے ہےعجیب بات ہے ساقی شراب مانگے ہےUma Shankar Shadan Gwaliori
- وہ سوز و ساز وہ نغمہ خیال و خواب ہوامٹا کے ہم کو زمانہ بہت خراب ہواUma Shankar Shadan Gwaliori
- چاہتا ہے کوئی اگر اڑناتو ضروری ہے اس کا ڈر اڑناVijay kumar Swarnkar
- روکیں نہ اپنی فکر کو پت جھڑ کے آس پاسدیمک لگی ہوئی ہے ہر اک جڑ کے آس پاسVijay kumar Swarnkar
- سمجھ کے سوچ کے ڈھرے بدل دئے جائیںاب انقلاب کے نسخے بدل دئے جائیںVijay kumar Swarnkar
- فطرت سے اس کی آج بھی وہ کل نہیں گیارسی تو جل گئی ہے مگر بل نہیں گیاVijay kumar Swarnkar
- کٹ چکا جنگل مگر ضد پر اڑی ہےایک چڑیا گھونسلہ لے کر کھڑی ہےVijay kumar Swarnkar
- کہرا ہے کہ دھندھلا سا سپن اوڑھ رکھا ہےاس بھور نے کیا ننگے بدن اوڑھ رکھا ہےVijay kumar Swarnkar
- ہر نئی ایجاد کی کل تک ہمیں بنیاد تھےلوگ لوہا بھی نہ تھے جس وقت ہم فولاد تھےVijay kumar Swarnkar
- یہ سوچ سوچ کے کرتے ہیں خودکشی پتھرکہ کس کے پھیر میں آ کر ہوئی ندی پتھرVijay kumar Swarnkar
- اسی چیز کی کوئی عزت نہیںزمانے کو جس کی ضرورت نہیںابومحمد سید حسین سیفی
- جہل حیوان کی نشانی ہےعقل انسان کی نشانی ہےابومحمد سید حسین سیفی
- علم کو پرہیزگاری چاہئےگلشنوں کو آبیاری چاہئےابومحمد سید حسین سیفی
- فخر سمجھا در دل دار پہ مر جانے کوکیسے دانائی یہ سوجھی ترے دیوانے کوابومحمد سید حسین سیفی
- نہ ہو پہلو میں جب دل زندگی کیاارے ہم کیا ہماری دل لگی کیاابومحمد سید حسین سیفی
- نہیں کام آتی محبت کسی کینہ آئے کسی پر طبیعت کسی کیابومحمد سید حسین سیفی
- ہم سلامت ہیں تو اپنا گھر بھی ہےزر بھی ہے زر گر بھی ہے زیور بھی ہےابومحمد سید حسین سیفی
- عدو کی بزم میں اے بزمؔ یہ شب تو بسر کر لواگر دیکھا نہیں جاتا تو منہ اپنا ادھر کر لوعاشق حسین بزم آفندی
- عمر گزری ان بتوں کے وصل کی تدبیر میںکیا خبر مجھ کو یہ پتھر تھے مری تقدیر میںعاشق حسین بزم آفندی
- کل سے دل بیمار کی حالت نہیں اچھیاللہ کرے خیر ہو صورت نہیں اچھیعاشق حسین بزم آفندی
- یوں تو میں نہیں ہوں ترے فرمان سے باہرچاہوں جو نہ تجھ کو یہ ہے امکان سے باہرعاشق حسین بزم آفندی
- یہ کیا خبر ہے کہ وہ بے خبر نہیں آتاہمیں تو ہوش ہی دودو پہر نہیں آتاعاشق حسین بزم آفندی
- کوئی نادان نہ دانا اچھاآپ اچھے تو زمانا اچھاعاشق حسین بزم آفندی
- مقتل میں آج حوصلہ دل کا نکل گیاسب اپنے پاؤں سے گئے میں سر کے بل گیاعاشق حسین بزم آفندی
- چراغ زندگی ہوگا فروزاں ہم نہیں ہوں گےچمن میں آئے گی فصل بہاراں ہم نہیں ہوں گےعبد المجید سالک
- خرد میں مبتلا ہے سالکؔ دیوانہ برسوں سےنہیں آیا وہ مے خانے میں بیباکانہ برسوں سےعبد المجید سالک
- غم کے ہاتھوں مرے دل پر جو سماں گزرا ہےحادثہ ایسا زمانے میں کہاں گزرا ہےعبد المجید سالک
- مرے دل میں ہے کہ پوچھوں کبھی مرشد مغاں سےکہ ملا جمال ساقی کو یہ طنطنہ کہاں سےعبد المجید سالک
- نہ محتسب کی نہ حور و جناں کی بات کرومئے کہن کی نگار جواں کی بات کروعبد المجید سالک
- وہ ہے حیرت فزائے چشم معنی سب نظاروں میںتڑپ بجلی میں اس کی اضطراب اس کا ستاروں میںعبد المجید سالک
- ہم نفسو اجڑ گئیں مہر و وفا کی بستیاںپوچھ رہے ہیں اہل مہر و وفا کو کیا ہواعبد المجید سالک
- اپنی ہستی سے تھا خود میں بد گماں کل رات کوکچھ نہ تھا اندیشۂ سود و زیاں کل رات کوعبدالعلیم آسی
- اس سے امید وفا اے دل ناشاد نہ کرزندگی اپنی اس ارمان میں برباد نہ کرعبدالعلیم آسی
- جبین شوق کو کچھ اور بھی اذن سعادت دےکہ ذوق زندگی محدود سنگ آستاں تک ہےعبدالعلیم آسی
- حجاب گنج مخفی میں نہاں تھےالٰہی ہم کہاں آئے کہاں تھےعبدالعلیم آسی
- حسن کی کم نہ ہوئی گرمئ بازار ہنوزنقد جان تک لیے پھرتے ہیں خریدار ہنوزعبدالعلیم آسی
- کبھی اے حقیقت دلبری سمٹ آ نگاہ مجاز میںکہ تڑپ رہے ہیں ہزاروں دل رہ عشق سینہ گداز میںعبدالعلیم آسی
- وہ اگر بے حجاب ہو جاتاخلق میں انقلاب ہو جاتاعبدالعلیم آسی
- اری زندگی گلہ اب نہیں جو ہوا تھا سب وہ بجا ہوامیرے پیار کا تھا جو کارواں وہ رکا جہاں تھا لٹا ہواChhabi Saksena Sahai Saba
- بتا روزمرہ کی زندگی تو نے یہ وفا کا صلہ دیامرے ساتھ جو بھی رفاقتیں تھیں سبھی سے پردہ ہٹا دیاChhabi Saksena Sahai Saba
- تیری اک بات پہ یوں دل سے ترانے نکلےجیسے امید کے جگنو کے ٹھکانے نکلےChhabi Saksena Sahai Saba
- کچھ ٹوٹتا ہے اندر بولو میں کیا کروں ابخاموش ہے بونڈر بولو میں کیا کروں ابChhabi Saksena Sahai Saba
- کھل اٹھے ہیں زخم پھولوں کی طرحکوئی آیا ہے بہاروں کی طرحChhabi Saksena Sahai Saba
- میں ہوں نا مراد وفائے غم نہ تو میں نصیب بہار ہوںجو نہ کھل سکے وہی گل ہوں میں کہ چمن کا میں وہ فگار ہوںChhabi Saksena Sahai Saba
- یہ خواب مرے کانچ کے ان کو ہے بکھرنااو جگنو مری آنکھ کے کچھ دیر چمکناChhabi Saksena Sahai Saba
- آج یوں درد ترا دل کے افق پر چمکاجیسے دو پل کے لیے صبح کا اختر چمکاHafiz Ludhiyanvi
- جو خوش نصیب حضوری میں جا نکلتا ہےلبوں سے نغمہ صل علی نکلتا ہےHafiz Ludhiyanvi
- شعلۂ درد بعنوان تجلا ہی سہیلطف دیوانگی و ذوق تماشا ہی سہیHafiz Ludhiyanvi
- وہ قریۂ مہتاب رہے صبح و مسا یادکچھ بھی نہ رہے شہر تمنا کے سوا یادHafiz Ludhiyanvi