Poetry

Poet
Meter
  1. میرا غم میرے خیالات ہی سب کچھ تو نہیںان کی محفل میں مری بات ہی سب کچھ تو نہیںUma Shankar Shadan Gwaliori
  2. وفا کے لطف محبت کے خواب مانگے ہےعجیب بات ہے ساقی شراب مانگے ہےUma Shankar Shadan Gwaliori
  3. وہ سوز و ساز وہ نغمہ خیال و خواب ہوامٹا کے ہم کو زمانہ بہت خراب ہواUma Shankar Shadan Gwaliori
  4. چاہتا ہے کوئی اگر اڑناتو ضروری ہے اس کا ڈر اڑناVijay kumar Swarnkar
  5. روکیں نہ اپنی فکر کو پت جھڑ کے آس پاسدیمک لگی ہوئی ہے ہر اک جڑ کے آس پاسVijay kumar Swarnkar
  6. سمجھ کے سوچ کے ڈھرے بدل دئے جائیںاب انقلاب کے نسخے بدل دئے جائیںVijay kumar Swarnkar
  7. فطرت سے اس کی آج بھی وہ کل نہیں گیارسی تو جل گئی ہے مگر بل نہیں گیاVijay kumar Swarnkar
  8. کٹ چکا جنگل مگر ضد پر اڑی ہےایک چڑیا گھونسلہ لے کر کھڑی ہےVijay kumar Swarnkar
  9. کہرا ہے کہ دھندھلا سا سپن اوڑھ رکھا ہےاس بھور نے کیا ننگے بدن اوڑھ رکھا ہےVijay kumar Swarnkar
  10. ہر نئی ایجاد کی کل تک ہمیں بنیاد تھےلوگ لوہا بھی نہ تھے جس وقت ہم فولاد تھےVijay kumar Swarnkar
  11. یہ سوچ سوچ کے کرتے ہیں خودکشی پتھرکہ کس کے پھیر میں آ کر ہوئی ندی پتھرVijay kumar Swarnkar
  12. اسی چیز کی کوئی عزت نہیںزمانے کو جس کی ضرورت نہیںابومحمد سید حسین سیفی
  13. جہل حیوان کی نشانی ہےعقل انسان کی نشانی ہےابومحمد سید حسین سیفی
  14. علم کو پرہیزگاری چاہئےگلشنوں کو آبیاری چاہئےابومحمد سید حسین سیفی
  15. فخر سمجھا در دل دار پہ مر جانے کوکیسے دانائی یہ سوجھی ترے دیوانے کوابومحمد سید حسین سیفی
  16. نہ ہو پہلو میں جب دل زندگی کیاارے ہم کیا ہماری دل لگی کیاابومحمد سید حسین سیفی
  17. نہیں کام آتی محبت کسی کینہ آئے کسی پر طبیعت کسی کیابومحمد سید حسین سیفی
  18. ہم سلامت ہیں تو اپنا گھر بھی ہےزر بھی ہے زر گر بھی ہے زیور بھی ہےابومحمد سید حسین سیفی
  19. عدو کی بزم میں اے بزمؔ یہ شب تو بسر کر لواگر دیکھا نہیں جاتا تو منہ اپنا ادھر کر لوعاشق حسین بزم آفندی
  20. عمر گزری ان بتوں کے وصل کی تدبیر میںکیا خبر مجھ کو یہ پتھر تھے مری تقدیر میںعاشق حسین بزم آفندی
  21. کل سے دل بیمار کی حالت نہیں اچھیاللہ کرے خیر ہو صورت نہیں اچھیعاشق حسین بزم آفندی
  22. یوں تو میں نہیں ہوں ترے فرمان سے باہرچاہوں جو نہ تجھ کو یہ ہے امکان سے باہرعاشق حسین بزم آفندی
  23. یہ کیا خبر ہے کہ وہ بے خبر نہیں آتاہمیں تو ہوش ہی دودو پہر نہیں آتاعاشق حسین بزم آفندی
  24. کوئی نادان نہ دانا اچھاآپ اچھے تو زمانا اچھاعاشق حسین بزم آفندی
  25. مقتل میں آج حوصلہ دل کا نکل گیاسب اپنے پاؤں سے گئے میں سر کے بل گیاعاشق حسین بزم آفندی
  26. چراغ زندگی ہوگا فروزاں ہم نہیں ہوں گےچمن میں آئے گی فصل بہاراں ہم نہیں ہوں گےعبد المجید سالک
  27. خرد میں مبتلا ہے سالکؔ دیوانہ برسوں سےنہیں آیا وہ مے خانے میں بیباکانہ برسوں سےعبد المجید سالک
  28. غم کے ہاتھوں مرے دل پر جو سماں گزرا ہےحادثہ ایسا زمانے میں کہاں گزرا ہےعبد المجید سالک
  29. مرے دل میں ہے کہ پوچھوں کبھی مرشد مغاں سےکہ ملا جمال ساقی کو یہ طنطنہ کہاں سےعبد المجید سالک
  30. نہ محتسب کی نہ حور و جناں کی بات کرومئے کہن کی نگار جواں کی بات کروعبد المجید سالک
  31. وہ ہے حیرت فزائے چشم معنی سب نظاروں میںتڑپ بجلی میں اس کی اضطراب اس کا ستاروں میںعبد المجید سالک
  32. ہم نفسو اجڑ گئیں مہر و وفا کی بستیاںپوچھ رہے ہیں اہل مہر و وفا کو کیا ہواعبد المجید سالک
  33. اپنی ہستی سے تھا خود میں بد گماں کل رات کوکچھ نہ تھا اندیشۂ سود و زیاں کل رات کوعبدالعلیم آسی
  34. اس سے امید وفا اے دل ناشاد نہ کرزندگی اپنی اس ارمان میں برباد نہ کرعبدالعلیم آسی
  35. جبین شوق کو کچھ اور بھی اذن سعادت دےکہ ذوق زندگی محدود سنگ آستاں تک ہےعبدالعلیم آسی
  36. حجاب گنج مخفی میں نہاں تھےالٰہی ہم کہاں آئے کہاں تھےعبدالعلیم آسی
  37. حسن کی کم نہ ہوئی گرمئ بازار ہنوزنقد جان تک لیے پھرتے ہیں خریدار ہنوزعبدالعلیم آسی
  38. کبھی اے حقیقت دلبری سمٹ آ نگاہ مجاز میںکہ تڑپ رہے ہیں ہزاروں دل رہ عشق سینہ گداز میںعبدالعلیم آسی
  39. وہ اگر بے حجاب ہو جاتاخلق میں انقلاب ہو جاتاعبدالعلیم آسی
  40. اری زندگی گلہ اب نہیں جو ہوا تھا سب وہ بجا ہوامیرے پیار کا تھا جو کارواں وہ رکا جہاں تھا لٹا ہواChhabi Saksena Sahai Saba
  41. بتا روزمرہ کی زندگی تو نے یہ وفا کا صلہ دیامرے ساتھ جو بھی رفاقتیں تھیں سبھی سے پردہ ہٹا دیاChhabi Saksena Sahai Saba
  42. تیری اک بات پہ یوں دل سے ترانے نکلےجیسے امید کے جگنو کے ٹھکانے نکلےChhabi Saksena Sahai Saba
  43. کچھ ٹوٹتا ہے اندر بولو میں کیا کروں ابخاموش ہے بونڈر بولو میں کیا کروں ابChhabi Saksena Sahai Saba
  44. کھل اٹھے ہیں زخم پھولوں کی طرحکوئی آیا ہے بہاروں کی طرحChhabi Saksena Sahai Saba
  45. میں ہوں نا مراد وفائے غم نہ تو میں نصیب بہار ہوںجو نہ کھل سکے وہی گل ہوں میں کہ چمن کا میں وہ فگار ہوںChhabi Saksena Sahai Saba
  46. یہ خواب مرے کانچ کے ان کو ہے بکھرنااو جگنو مری آنکھ کے کچھ دیر چمکناChhabi Saksena Sahai Saba
  47. آج یوں درد ترا دل کے افق پر چمکاجیسے دو پل کے لیے صبح کا اختر چمکاHafiz Ludhiyanvi
  48. جو خوش نصیب حضوری میں جا نکلتا ہےلبوں سے نغمہ صل علی نکلتا ہےHafiz Ludhiyanvi
  49. شعلۂ درد بعنوان تجلا ہی سہیلطف دیوانگی و ذوق تماشا ہی سہیHafiz Ludhiyanvi
  50. وہ قریۂ مہتاب رہے صبح و مسا یادکچھ بھی نہ رہے شہر تمنا کے سوا یادHafiz Ludhiyanvi