احوال رنج بزم میں کہنا محال ہے
Madhav Noorاحوال رنج بزم میں کہنا محال ہے
کہتے ہیں خوب شعر کہا ہے کمال ہے
کتنا حسیں عروج ہے کیسا جمال ہے
لیکن ازل سے طے ہے کہ اک دن زوال ہے
شاید وہ اک سراب ہے لیکن میں کیا کروں
میرا وہی ہے دشت میں پرسان حال ہے
پوچھا گیا ہے مجھ سے ترا کون ہے خدا
یا رب عالمین یہ کیسا سوال ہے
ڈرنے کا دے دیا ہے وبا نے نیا سبب
باقی ہر ایک خوف یہاں حسب حال ہے