بے سبب ہم سے وہ بیزار نظر آتے ہیں
Sabiha Khanبے سبب ہم سے وہ بیزار نظر آتے ہیں
دکھ کے ہر چار سو انبار نظر آتے ہیں
کل تلک جن کو تھی ہم سے نسبت ہمدم
آج غیروں کے طلب گار نظر آتے ہیں
جب بھی تاریخ کے اوراق پلٹ کر دیکھوں
عظمت رفتہ کے مینار نظر آتے ہیں
کس کو فرصت ہے یہاں دوسروں کے غم بانٹے
لوگ خوشیوں کے خریدار نظر آتے ہیں
گرد میں کارواں کی آج مجھے مبہم سے
دور منزل کے کچھ آثار نظر آتے ہیں
خیر کی جن سے کسی کو نہ تھی کوئی امید
وہ بھی اب مائل ایثار نظر آتے ہیں
آخرش گزری صبیحہؔ یہ اندھیری شب بھی
خیر سے صبح کے آثار نظر آتے ہیں