ہے جما خون رگوں میں کہ رواں کچھ بھی نہیں

Madhav Noor

ہے جما خون رگوں میں کہ رواں کچھ بھی نہیں

تم سے یہ کس نے کہا ہے کہ وہاں کچھ بھی نہیں

کوئی دھڑکن کی سی آواز اٹھی سینے میں

جب کہ ہاتھوں سے ٹٹولا تو کہاں کچھ بھی نہیں

قبل اور بعد کے منظر تو ہوئے ہیں یکساں

تجھ سے پہلے کہ ترے بعد جہاں کچھ بھی نہیں

دیکھ تنہائی مجھے چھوڑ گئے یار سبھی

مسکرا دے کہ سوا تیرے یہاں کچھ بھی نہیں

پھر سے برہا میں جلا نورؔ کرشمہ کیا ہے

کوئی انگار نہ آتش نہ دھواں کچھ بھی نہیں