سبھی سمتوں کو ٹھکرا کر اڑی جائے
Chandra Parkash Shadسبھی سمتوں کو ٹھکرا کر اڑی جائے
کہاں تک جانے گرد گم رہی جائے
بچا کر اپنے سائے کو کہاں رکھوں
کہ شب تو ہر طرف کو پھیلتی جائے
کوئی دیوار ہے تیری سماعت بھی
کہ جو آواز آئے لوٹتی جائے
نہ پہروں لکھ سکوں میں کوئی بات اپنی
عجب سی گرد کاغذ پر جمی جائے
اچانک ٹوٹ جائے قصر تنہائی
کوئی آواز کھڑکی کھولتی جائے
سنا ہے میں صداؤں کا سمندر ہوں
یہ سناٹا کہیں مجھ کو نہ پی جائے
وہاں بسنے کی خواہش منہ تکے میرا
عمارت بنتے بنتے ٹوٹتی جائے
ابھرتے جائیں رنگوں کے کھلے منظر
مگر بے فرصتی آنکھوں کو سی جائے
یوں ہی کھپتے نہ جائیں روز و شب میں ہم
کبھی تو بات بے موسم بھی کی جائے
یہ تم کس کے لئے جلتے ہو گوشوں میں
چلو چھت پر سڑک تک روشنی جائے