ہر اک امکان تک پسپائی ہے اپنی
Chandra Parkash Shadہر اک امکان تک پسپائی ہے اپنی
اور اس کے بعد صف آرائی ہے اپنی
سزا سمجھو مجھے اس کھوکھلے پن کی
صدا ہر سمت سے لوٹ آئی ہے اپنی
جماعت بے جماعت ایک سا ہوں میں
کہ صدہا شکل کی تنہائی ہے اپنی
اب ان سیرابیوں کا سلسلہ کب تک
خبر تو مدتوں تک پائی ہے اپنی
پھر اپنے آپ میں گرنے لگا ہوں میں
وہی لغزش وہی گہرائی ہے اپنی
سفر بے لذتی کی جستجو کا ہے
بہ ہر منظر زیاں پیمائی ہے اپنی