عالم سجدہ ہے میرا ایک عالم نور کا

Damodar Thakur Zaki

عالم سجدہ ہے میرا ایک عالم نور کا

سجدہ گہ پر میری دھوکا ہو رہا ہے طور کا

ایک عالم ہم نوا ہے صاحب مقدور کا

ساتھ دیتا ہے کہاں کوئی کسی مجبور کا

شدت احساس تنہائی کی ہیں ہمدردیاں

درد بڑھ جاتا ہے اکثر رات کو رنجور کا

تیر نے ناپی ہیں شاید زخم کی گہرائیاں

علم بے چارے کو کیا ہے صدمۂ مستور کا

شمع روشن ہے کہاں اس کا پتہ چلتا نہیں

پر نظر کو ہے یقیں موجودگیٔ نور کا

ہیں کبھی نظریں تمنا پر کبھی امید پر

یعنی حسرت‌ ناک عالم ہے دل مجبور کا

تجھ میں اور تیرے تصور میں ذرا سا فرق ہے

ایک منظر پاس کا ہے ایک منظر دور کا

سرفرازی و نوازش کا سنا ہے صرف نام

اے ذکیؔ ان سے تو رشتہ بھی نہیں ہے دور کا