وہ سامنے ہوں اور نظر کو خبر نہ ہو
Damodar Thakur Zakiوہ سامنے ہوں اور نظر کو خبر نہ ہو
برباد اس قدر بھی شعور نظر نہ ہو
تجھ سے علاج اگر نہ ہو اے چارہ گر نہ ہو
راز غم مریض مگر در بدر نہ ہو
آنکھیں بچھی ہوئی ہیں بہت دور دور تک
ممکن نہیں کہ آپ کی یہ رہ گزر نہ ہو
مجھ پر برس پڑے نہ کہیں برہمیٔ زلف
جو تیرے سر بلا ہے مرے دل کے سر نہ ہو
تجھ سے ہی میرے جذبۂ الفت میں جان ہے
اے زندگی حیات تری مختصر نہ ہو
ہے وسعت نگاہ کو کچھ اور جستجو
اے حد کائنات تو حد نظر نہ ہو
راہ وفا کا لطف بھی کچھ چل کے دیکھیے
اس رہ گزر پہ آپ کا شاید گزر نہ ہو
جذبات دل کو لاکھ چھپاتے ہو تم مگر
اس بزم میں کہیں کوئی اہل نظر نہ ہو
کیا ہو گیا ہے تجھ کو خدا جانے اے ذکیؔ
دل میں کوئی ہو اور نظر کو خبر نہ ہو