شانوں پہ نہ زلفیں بکھراؤ دیکھو یہ شرارت ٹھیک نہیں

Deedar Bastawi

شانوں پہ نہ زلفیں بکھراؤ دیکھو یہ شرارت ٹھیک نہیں

اس روز قیامت سے پہلے اک اور قیامت ٹھیک نہیں

رخ سے نہ ہٹاؤ پردے کو یہ چاند چھپا ہی رہنے دو

جل جائے نہ سارا حسن کہیں سورج کی تمازت ٹھیک نہیں

اے حسن کی ملکہ ہوش میں آ یہ پیار وفا سب رہنے دے

ہم خانہ بدوشوں کی خاطر محلوں سے بغاوت ٹھیک نہیں

ہو جائیں نہ ٹکڑے ٹکڑے سب آنکھوں کے سنہرے خواب ترے

پتھر کی حویلی کے آگے شیشے کی عمارت ٹھیک نہیں

اب مان بھی جا اے دل میرے اس پھول کی خواہش چھوڑ بھی دے

جو پھول چمن کی زینت ہو اس پھول کی حسرت ٹھیک نہیں

جب جلتے پتنگوں کو دیکھا دیدارؔ تو یہ معلوم ہوا

آغاز محبت ٹھیک تو ہے انجام محبت ٹھیک نہیں