چشم ساقی اگر سلامت ہے

Ehsan Akhtar Ghazipuri

چشم ساقی اگر سلامت ہے

ساغر و مے کی کیا ضرورت ہے

چاک دامن ہے آنکھ ہے پر نم

کیا یہی حاصل محبت ہے

یہ غم دل یہ درد تنہائی

میرے محبوب کی عنایت ہے

حسن مغرور کیا پتا تجھ کو

عاشقوں کا وجود رحمت ہے

الجھنوں اور زلف برہم میں

کوئی کیا جانے کتنی نسبت ہے

میری توبہ کی آج خیر نہیں

ہر ادا حسن کی قیامت ہے

وہ نہ آئے تو ان کی یاد آئی

یہ بھی اخترؔ بہت غنیمت ہے