ان کے بغیر چین نہ آئے تو کیا کروں
Ehsan Akhtar Ghazipuriان کے بغیر چین نہ آئے تو کیا کروں
ہر دم انہیں کی یاد ستائے تو کیا کروں
یوں تو خود آشیاں سے قفس بھی قریب ہے
بجلی بس آشیاں کو جلائے تو کیا کروں
ذرے ہیں سنگ میل ستارے ہیں راہبر
منزل جو کوئی پھر بھی نہ پائے تو کیا کروں
بادل بھی ہے بہار بھی ہے بے خودی بھی ہے
ایسے میں ان کی یاد ستائے تو کیا کروں
توبہ کو میں عزیز ہوں توبہ مجھے عزیز
لیکن کوئی نظر سے پلائے تو کیا کروں
جی تو رہا ہوں حسرت جلوہ لئے ہوئے
حسرت جو دید کی نہ بر آئے تو کیا کروں
آئی تو ہے چمن میں بہار چمن مگر
پھولوں کو اعتبار نہ آئے تو کیا کروں
توبہ پھر آج جان کے اخترؔ نے توڑ دی
فطرت سے اپنی باز نہ آئے تو کیا کروں