جب لڑکپن شباب تک پہنچا
Ehsan Akhtar Ghazipuriجب لڑکپن شباب تک پہنچا
منزل آفتاب تک پہنچا
کوئی ناصح کو یہ خبر کر دے
تشنہ لب پھر شراب تک پہنچا
قصۂ حسن دل کی محفل سے
محفل ماہتاب تک پہنچا
حسن تقسیم ہو کے جلووں میں
ذروں سے آفتاب تک پہنچا
ستم باغباں سے گھبرا کر
شعلۂ دل گلاب تک پہنچا
عشق میں آ گیا مقام ایسا
ہر سکوں اضطراب تک پہنچا
کارواں غم زدوں کا اے اختر
منزل کامیاب تک پہنچا