ندی پہاڑ سمندر چٹان کچھ بھی نہیں
Deedar Bastawiندی پہاڑ سمندر چٹان کچھ بھی نہیں
جواں ہو عزم تو پھر آسمان کچھ بھی نہیں
روش غلط ہے تو راہوں میں اڑچنیں ہیں بہت
ارادے نیک ہوں تو امتحان کچھ بھی نہیں
وہ اپنی شعلہ بیانی سے قتل کرتا ہے
اگرچہ ہاتھ میں تیر و کمان کچھ بھی نہیں
ہیں ملک و قوم کے اعزاز سب تمہارے لئے
مرے بزرگوں کے شایان شان کچھ بھی نہیں
نہ اب تو ماں ہے نہ ہی ماں کی یاد ہے گھر میں
سروتا لونگ ڈلی پاندان کچھ بھی نہیں
مرے لئے تو یہ بڑھ کر ہے جان سے میری
ترے لئے تو مرا خاندان کچھ بھی نہیں
یہ بیٹیوں کی دعاؤں کا نیک ثمرہ ہے
کٹی ہے عمر بدن میں تھکان کچھ بھی نہیں
مری کہانیاں پھیلی ہوئی ہیں چاروں طرف
مرے بغیر تری داستان کچھ بھی نہیں
وطن کے نام ہے دیدارؔ زندگی اپنی
وطن کے سامنے یہ جسم و جان کچھ بھی نہیں