پینے پہ لگا کر پابندی دشنام کی باتیں کرتے ہیں

Ehsan Akhtar Ghazipuri

پینے پہ لگا کر پابندی دشنام کی باتیں کرتے ہیں

یہ زاہد و عابد مسجد میں خود جام کی باتیں کرتے ہیں

کیوں آج ہیں وہ گھبرائے ہوئے الزام کی باتیں کرتے ہیں

آغاز محبت سے پہلے انجام کی باتیں کرتے ہیں

جب میری وفا مشکوک نہیں پھر بات یہ کیسی ہوتی ہے

محفل میں بلا کر آخر کیوں الزام کی باتیں کرتے ہیں

کیا غنچہ و گل سے نسبت ہے بیکار ہے زینت گلشن کی

کانٹوں پہ بسر کرنے والے آرام کی باتیں کرتے ہیں

جب راز محبت کھلنے سے توہین محبت ہوتی ہے

کیوں اشک ندامت آنکھوں میں الزام کی باتیں کرتے ہیں

کس طرح گزارے ہجر کا دن یہ بات نہ پوچھو اخترؔ سے

وہ صبح کی باتیں کیا جانیں جو شام کی باتیں کرتے ہیں