بدن کو اپنی بساط تک تو پسارنا تھا

Chandra Parkash Shad

بدن کو اپنی بساط تک تو پسارنا تھا

ہر ایک شے کو لہو کے رستے گزارنا تھا

جدھر فصیلوں نے اس کو موڑا یہ مڑ گئی ہے

ہوا کی موجوں میں کوئی کوندا اتارنا تھا

تو کیا سبب سات پانیوں کو نہ پی سکے ہم

خود اپنا ڈوبا ہوا جزیرہ ابھارنا تھا

میں اپنے اندر سمٹ گیا ایک لمحہ بن کر

کہیں تو اپنے جنم کا منظر گزارنا تھا

تم آ گئے کیوں وجود کی یہ برات لے کر

ہمیں تو اپنی رگوں میں شمشان اتارنا تھا

یہاں سے کٹ کر وہ جا کے جنگل میں سو گئی ہیں

اسی بہانے ہواؤں کو کھیل ہارنا تھا

نہ برج ٹوٹے نہ آنکھ جھپکی نہ وقت بیتا

نہ جانے کیا کچھ بسرنا تھا کیا بسارنا تھا