بلند زیست کا اپنی وقار ہو نہ سکا
Damodar Thakur Zakiبلند زیست کا اپنی وقار ہو نہ سکا
تری نظر میں مرا پیار پیار ہو نہ سکا
زمانہ زندگی کا سازگار ہو نہ سکا
جئے ضرور مگر اعتبار ہو نہ سکا
ترا وقار مکمل وقار ہو نہ سکا
کسی سے تجھ کو زمانے میں پیار ہو نہ سکا
زمانہ سارا ہوا ہے تمہارا محرم راز
نہ ہو سکا تو مرا اعتبار ہو نہ سکا
حیات گزری زمانے کی غم گساری میں
مگر کوئی بھی مرا غم گسار ہو نہ سکا