قریب منزل بھٹک رہے ہیں کسی کو اپنی خبر نہیں ہے

Ehsan Akhtar Ghazipuri

قریب منزل بھٹک رہے ہیں کسی کو اپنی خبر نہیں ہے

خدا ہی حافظ ہے کارواں کا کہ راہ ہے راہبر نہیں ہے

ہر ایک ذرے میں جلوہ ان کا ہر ایک جلوے میں حسن ان کا

کہاں جھکائیں جبیں کو آخر کہاں ترا سنگ در نہیں ہے

فریب رہزن میں دل کشی ہے اسی لئے اتنی بے خودی ہے

جسے سمجھتے ہو راہبر تم وہ اصل میں راہبر نہیں ہے

نہ جانے صحن چمن میں کیسی چمک سی رہ رہ کے ہو رہی ہے

مرے نشیمن کے چار تنکو یہ برق کی تو نظر نہیں ہے

مرے خلوص وفا کی منزل ہر ایک منزل سے مختلف ہے

رہ طلب میں چلا ہوں تنہا مرا کوئی ہم سفر نہیں ہے

شراب خانے میں جام مے کا سرور تو مختصر تھا لیکن

جو چشم ساقی نے بخش دی ہے وہ بے خودی مختصر نہیں ہے

جسے نہ بہکا سکی کبھی بھی کسی کی آنکھوں کی دل کشی بھی

اسے بس اک گھونٹ ہی میں اخترؔ کچھ آج اپنی خبر نہیں ہے