مٹی سے جو جڑے تھے وہ جذبات لے لئے
Deedar Bastawiمٹی سے جو جڑے تھے وہ جذبات لے لئے
ہجرت نے کھیت اور مرے باغات لے لئے
پڑھ کر درود گھر سے سفر کو میں چل پڑا
نام نبی نے راہ کے خدشات لے لئے
میں اک ہنر کے شہر کا فرزند خاص تھا
غربت نے میرے سارے کمالات لے لئے
شرم و حیا گھروں سے مٹانے کے ساتھ ساتھ
ٹی وی نے مسجدوں کے بھی اوقات لے لئے
دولت کی میں ہوس میں ہوا پر سوار تھا
شہرت نے میرے ارض و سماوات لے لئے
قوموں کو با شعور بنانے کے ساتھ ہی
تعلیم نے قدیم رسومات لے لئے
پھر دوستوں کی صف میں کوئی زلزلہ نہ ہو
غیبت کدوں نے میرے بیانات لے لئے
دیدارؔ چار مصرعوں پہ تھا اکتفا مرا