افق سایہ سفر دھوکا قدم کرتب
Chandra Parkash Shadافق سایہ سفر دھوکا قدم کرتب
بس اک ٹھوکر ہے اور یہ گرد زار شب
میں خالی ہو رہا ہوں ان خلاؤں میں
زباں سے گر رہے ہیں لفظ بے مطلب
بدن دکھتے نہیں چہرے تو روشن ہیں
عجب سی مشعلیں لے کر چلے ہیں سب
یہ بہتی موج ہے پاتال تک گہری
یہاں کیا ڈھونڈتے ہو گم شدہ منصب
نظر ہٹتی نہیں ٹیڑھی لکیروں سے
تعجب کیا جو ہم ہیں ہر نفس بے ڈھب
مجھے گھیرے میں رکھیں ندیاں نالے
میں شعلہ ہوں لپک جاؤں نہ جانے کب