نظر بن کر تجلی جلوہ گر ہے
Damodar Thakur Zakiنظر بن کر تجلی جلوہ گر ہے
جہاں بے ساختہ سجدے میں سر ہے
یہ کس سے کھیل اے دل کچھ خبر ہے
نظر ہے یہ حسینوں کی نظر ہے
وہ آتے ہیں تو آئیں ان کا گھر ہے
زہے تقدیر کیا اچھی خبر ہے
کسی کا ہر نفس دل میں گزر ہے
مگر آنکھوں کو کیا اس کی خبر ہے
ذرا بھی سہہ نہیں سکتے جسے تم
وہ کیفیت ہماری عمر بھر ہے
پھر آگے کیا ہوا ساقی ہی جانے
نظر مجھ پر پڑی اتنی خبر ہے
قیامت میں نشانی زندگی کی
میری تر دامنی ہے چشم تر ہے
وہ کیا جانے کسی کے دل کی حالت
جو اپنے حال ہی سے بے خبر ہے
قدم اٹھتے نہیں دل بیٹھتا ہے
خدا جانے یہ کس کی رہ گزر ہے
وہ گیسو کھول کر آئے چمن میں
صبا لائی ہے اور اڑتی خبر ہے
جدا ہیں اے ذکیؔ وہ جینے والے
مگر جینے کا الزام اپنے سر ہے