ان کے ہونٹوں پہ کیوں ہنسی کم ہے

Ehsan Akhtar Ghazipuri

ان کے ہونٹوں پہ کیوں ہنسی کم ہے

کیا مری آنکھ میں نمی کم ہے

میرے محبوب پھر کوئی جلوہ

چشم بینا میں روشنی کم ہے

حسرت دید رہ نہ جائے کہیں

آ بھی جاؤ کہ زندگی کم ہے

کیا کسی نے نقاب سرکا دی

کیوں ستاروں میں روشنی کم ہے

نقش پا ان کا چوم لیتے ہیں

کیا ہماری یہ بندگی کم ہے

جانے کیسے بہار آئی ہے

لالہ و گل پہ تازگی کم ہے

کیوں میں برسات کی دعا مانگوں

کیا مری آنکھ میں نمی کم ہے

شمع کی لو پہ رقص کرتے ہیں

جن پتنگوں کی زندگی کم ہے

بات کیا ہے کہ دل کی بیتابی

کل بھی کم تھی اور آج بھی کم ہے

میرے غم کا ہے یہ اثر اخترؔ

ان کے ہونٹوں پہ بھی ہنسی کم ہے