نقش قدم ملے جو ترے چل کے سر سے ہم
Damodar Thakur Zakiنقش قدم ملے جو ترے چل کے سر سے ہم
اکثر گزر گئے ہیں تری رہ گزر سے ہم
ہیں بے نیاز تندہیٔ چارہ گر سے ہم
بے خود رہے عنایت درد جگر سے ہم
سمجھے جہاں کو اپنا بڑے کر و فر سے ہم
دیکھے گئے ہمیشہ پرائی نظر سے ہم
نقش قدم سے چمٹے تری رہ گزر سے ہم
پر تیری دید کو رہے ترسے کے ترسے ہم
ہم دیکھتے ہیں تم کو ہماری نگاہ سے
غیروں کو دیکھتے ہیں تمہاری نظر سے ہم
محفوظ کر لے اپنے لئے غم گساریاں
صیاد با خبر ہیں ترے خیر و شر سے ہم
تم کو سمجھ کے تم ستم اپنے پہ ڈھا لئے
کس درجے بے خبر ہیں ہماری خبر سے ہم
اللہ شیخ جی کو تو جنت کرے نصیب
وابستہ صبح و شام رہیں ان کے در سے ہم
لاتے نہ تیرے عشق میں شکوے زبان پر
آپ اپنے کو سمجھتے اگر پیشتر سے ہم
ہم تیرے ہو کے بزم میں تیری نہ رہ سکے
محفل تھی تیری آنکھ سی تیری نظر سے ہم
یا پار ہوں گے چیر کے یا ڈوب جائیں گے
ساحل پہ رک نہ جائیں گے طوفاں کے ڈر سے ہم
نکلی ہوئی دعائیں ابھی جستجو میں ہیں
شاید بعید تر ہیں مقام اثر سے ہم
نظروں سے سب کی گر گئے پروا نہ تھی ہمیں
لیکن غضب ہے گرتے ہیں اپنی نظر سے ہم
کیا حشر ہونے والا ہے دیکھیں گے اے ذکیؔ
بیٹھے ہیں دل لگا کے کسی فتنہ گر سے ہم