لے لیا وعدہ ان کے آنے کا

Damodar Thakur Zaki

لے لیا وعدہ ان کے آنے کا

اب مقدر غریب خانے کا

کھل گیا راز مسکرانے کا

تم کو نکتہ ملا بہانے کا

روز ہی انقلاب آتے ہیں

کیا بھروسہ کسی زمانے کا

ایک صیاد ایک میں اک برق

سب کو ارماں ہے آشیانے کا

دل میں بھی کچھ ہے اے جبین نیاز

تو تو ہے نقش آستانے کا

تم تو ہونے لگے ہو سنجیدہ

اب میں آنسو نہیں بہانے کا

جانیں انجام برق یا صیاد

ہے تو آغاز آشیانے کا

قسمت عشق یا ہو دولت حسن

کس کو شکوہ نہیں زمانے کا

اشک رنگیں مرا فسانہ ہے

زندگی نام ہے فسانے کا

یاس ہے اک ہرا بھرا بوٹا

میرے دل کے نگار خانے کا

خوف صیاد سے لرزتا ہوں

دل ہوں میں اپنے آشیانے کا

زندگی ہارنے لگی ہمت

اب رہا کیا ہے آزمانے کا

گل کی خاطر چمن میں بستے ہیں

اور بہانہ ہے آشیانے کا

محفل غیر میں ذرا بچ کر

میں کہیں تم کو یاد آنے کا

ساتھ توبہ لگی ہوئی تھی ذکیؔ

اور کھلا در شراب خانے کا