Poetry
Poet
Meter
- دل سوز غم سے جلتا ہے لب پر فغاں نہیںیہ آگ بھی نئی ہے کہ جس میں دھواں نہیںمحمود رامپوری
- ظاہر فریب نرگس مستانہ ہو گیاکچھ ہوشیار اب دل دیوانہ ہو گیامحمود رامپوری
- غم فرقت سہا نہیں جاتاروز مر کر جیا نہیں جاتامحمود رامپوری
- مانا کہ سخت ہوتی ہے تیر و تبر کی چوٹلیکن بری بلا ہے کسی کی نظر کی چوٹمحمود رامپوری
- مجھے پہلے تم اک نظر دیکھ لیناجدھر چاہے جی پھر ادھر دیکھ لینامحمود رامپوری
- نیک و بد عشق میں جو ہے مری تقدیر میں ہےآپ وہ کیجئے جو آپ کی تدبیر میں ہےمحمود رامپوری
- وہ بھی کیا دن تھے کہ الفت کا سبق یاد نہ تھادرد ہمدرد نہ تھا غم مرا ہم زاد نہ تھامحمود رامپوری
- یہ سچ ہے ہر جگہ تم جلوہ گر ہووہ دیکھے جس کی آنکھیں ہوں نظر ہومحمود رامپوری
- جب ہوا وعدہ اور وفا نہ ہواپھر برابر ہے وہ ہوا نہ ہوامحمود رامپوری
- گھر میں نظر آتی نہیں غم خوار کی صورتتکتے ہیں پڑے ہم در و دیوار کی صورتمحمود رامپوری
- آرزوئے دل صد چاک ہے درماں ہونایعنی کچھ اور تری تیغ کا احساں ہوناNabiul Hasan Shamim
- پابندیٔ راحت مجھے منظور نہیں ہےمیں خوش ہوں کہ فطرت مری مجبور نہیں ہےNabiul Hasan Shamim
- پرتو رخ ہے آئنہ کیا ہےآپ اپنے کو دیکھتا کیا ہےNabiul Hasan Shamim
- تم چلے آؤ تو ذوق غم ہجراں بھی نہیںجان دینے کا کچھ ایسا مجھے ارماں بھی نہیںNabiul Hasan Shamim
- دنیا کی خواہشات میں الجھا نہیں ہوں میںاڑ جائے جو ہوا میں وہ تنکا نہیں ہوں میںNabiul Hasan Shamim
- زخم پیکان ستم لایق اظہار نہیںہم کو منظور علاج دل بیمار نہیںNabiul Hasan Shamim
- غیر سے جم نہ سکا رنگ وفا میرے بعدمٹ گیا شیوۂ تسلیم و رضا میرے بعدNabiul Hasan Shamim
- محو کر ڈالے گی اک دن حسن کی شہرت مجھےغیر تجھ کو دیکھتے ہیں ہوتی ہے حیرت مجھےNabiul Hasan Shamim
- موت ہے تیرے مریضوں کو شفا ہو جاناقہر ہے قید مصائب سے رہا ہو جاناNabiul Hasan Shamim
- ہماری طرز شکایت کسی کو کیا معلومتمہارا رنگ طبیعت کسی کو کیا معلومNabiul Hasan Shamim
- ہمیں سفینۂ ہستی کا رہنما نہ ملاخدا کو ساتھ لیا کوئی ناخدا نہ ملاNabiul Hasan Shamim
- ایک عاشق با وفا اور ایک محبوبہ حسیںکر رہے ہیں دونوں باہم گفتگوئے دل نشیںNabiul Hasan Shamim
- روکش چرخ یہی گوشۂ جنت ہے یہیچشم اغیار میں آئینۂ حیرت ہے یہیNabiul Hasan Shamim
- اک شخص جواں خاک بسر یاد تو ہوگاوہ اپنی نگاہوں کا اثر یاد تو ہوگانہال سیوہاروی
- بہار کا روپ بھی نگاہوں میں اک فریب بہار سا ہےحیات میں دل کشی نہیں ہے حیات میں انتشار سا ہےنہال سیوہاروی
- چارہ فرمائی دل رسم بتاں ہے تو سہیابھی کچھ مہر و محبت کا نشاں ہے تو سہینہال سیوہاروی
- دل نا مطمئن اندیشۂ برق تپاں میں ہےجو بے تابی قفس میں تھی وہی اب آشیاں میں ہےنہال سیوہاروی
- رابطہ ہے مجھے شیشے سے نہ پیمانے سےپھر وہ کیا بات ہے منسوب ہوں مے خانے سےنہال سیوہاروی
- زندگی زہر کا اک جام ہوئی جاتی ہےکیا سے کیا یہ مے گلفام ہوئی جاتی ہےنہال سیوہاروی
- گرمئ عشق کے بغیر لطف حیات رائیگاںعشق ہے زندگی کا روپ عشق سے زندگی جواںنہال سیوہاروی
- واہ فسون آب و گلدہر ہے اک رنگیں محفلنہال سیوہاروی
- ہوں کالبد خاک میں مہماں کوئی دن اورقسمت میں ہے پابندیٔ زنداں کوئی دن اورنہال سیوہاروی
- اڑا لیے ہیں کچھ ارباب گلستاں نے تو کیاہزار شیوۂ نو ہیں مری فغاں کے لیےنہال سیوہاروی
- جنوں تعلیم کچھ فرما رہا ہےخرد کا ساتھ چھوٹا جا رہا ہےنہال سیوہاروی
- عہد حاضر میں عیار صبح تو بدلا مگراے اندھیری رات تجھ کو بھی بدلنا چاہیئےنہال سیوہاروی
- یہی بے لوث محبت یہی غم خوارئ خلقاور معراج کسے کہتے ہیں انسانوں کینہال سیوہاروی
- آئے ہیں فاتحہ کو وہ گیسو سنوار کےچمکے نصیب آج ہمارے مزار کےنشتر چھپروی
- اک غیر کہ محفل سے اٹھایا نہیں جاتااک میں کہ کبھی ساتھ بٹھایا نہیں جاتانشتر چھپروی
- ان کی باتوں کو کچھ قیام نہیںصبح کہتے ہیں ہاں تو شام نہیںنشتر چھپروی
- تم ہجر کے جھگڑوں کو مٹا کیوں نہیں دیتےبگڑی ہوئی تقدیر بنا کیوں نہیں دیتےنشتر چھپروی
- جب عشق کا جنوں مرے سر پر سوار تھادل کو قرار تھا نہ جگر کو قرار تھانشتر چھپروی
- درد وہ تو نے دیا جس کا مداوا نہ ہواتیرا بیمار مسیحا سے بھی اچھا نہ ہوانشتر چھپروی
- عبث فکر دوا میں ہے پریشاں چارہ گر میرامرا سر جائے گا تو جائے گا یہ درد سر میرانشتر چھپروی
- کیا بچے دل جان لیوا اس کا ہر انداز ہےغمزہ ہے عشوہ ہے شوخی ہے ادا ہے ناز ہےنشتر چھپروی
- میں کیا کہوں کہ حال ہے کیا ہجر یار میںدل اختیار میں نہ جگر اختیار میںنشتر چھپروی
- نہ بکھرایا کرو تم بیٹھے بیٹھے زلف پیچاں کوخدا کے واسطے دیکھو مرے حال پریشاں کونشتر چھپروی
- وہ بھی کیا دن تھے کہ جب چاہ نہ تھی پیار نہ تھاہجر کا رنج نہ تھا عشق کا آزار نہ تھانشتر چھپروی
- تیر مژگاں کو تو پیکان قضا کہتے ہیںپر نگاہ غلط انداز کو کیا کہتے ہیںنشتر چھپروی
- نہ جس میں آرزو ہوتی نہ جس میں مدعا ہوتامجھے بھی ایک دل یا رب کوئی ایسا دیا ہوتانشتر چھپروی
- آج صیاد نے بھولے سے چمن دکھلایامیری تقدیر نے پھر مجھ کو وطن دکھلایانسیم میسوری