Poetry

Poet
Meter
  1. دل سوز غم سے جلتا ہے لب پر فغاں نہیںیہ آگ بھی نئی ہے کہ جس میں دھواں نہیںمحمود رامپوری
  2. ظاہر فریب نرگس مستانہ ہو گیاکچھ ہوشیار اب دل دیوانہ ہو گیامحمود رامپوری
  3. غم فرقت سہا نہیں جاتاروز مر کر جیا نہیں جاتامحمود رامپوری
  4. مانا کہ سخت ہوتی ہے تیر و تبر کی چوٹلیکن بری بلا ہے کسی کی نظر کی چوٹمحمود رامپوری
  5. مجھے پہلے تم اک نظر دیکھ لیناجدھر چاہے جی پھر ادھر دیکھ لینامحمود رامپوری
  6. نیک و بد عشق میں جو ہے مری تقدیر میں ہےآپ وہ کیجئے جو آپ کی تدبیر میں ہےمحمود رامپوری
  7. وہ بھی کیا دن تھے کہ الفت کا سبق یاد نہ تھادرد ہمدرد نہ تھا غم مرا ہم زاد نہ تھامحمود رامپوری
  8. یہ سچ ہے ہر جگہ تم جلوہ گر ہووہ دیکھے جس کی آنکھیں ہوں نظر ہومحمود رامپوری
  9. جب ہوا وعدہ اور وفا نہ ہواپھر برابر ہے وہ ہوا نہ ہوامحمود رامپوری
  10. گھر میں نظر آتی نہیں غم خوار کی صورتتکتے ہیں پڑے ہم در و دیوار کی صورتمحمود رامپوری
  11. آرزوئے دل صد چاک ہے درماں ہونایعنی کچھ اور تری تیغ کا احساں ہوناNabiul Hasan Shamim
  12. پابندیٔ راحت مجھے منظور نہیں ہےمیں خوش ہوں کہ فطرت مری مجبور نہیں ہےNabiul Hasan Shamim
  13. پرتو رخ ہے آئنہ کیا ہےآپ اپنے کو دیکھتا کیا ہےNabiul Hasan Shamim
  14. تم چلے آؤ تو ذوق غم ہجراں بھی نہیںجان دینے کا کچھ ایسا مجھے ارماں بھی نہیںNabiul Hasan Shamim
  15. دنیا کی خواہشات میں الجھا نہیں ہوں میںاڑ جائے جو ہوا میں وہ تنکا نہیں ہوں میںNabiul Hasan Shamim
  16. زخم پیکان ستم لایق اظہار نہیںہم کو منظور علاج دل بیمار نہیںNabiul Hasan Shamim
  17. غیر سے جم نہ سکا رنگ وفا میرے بعدمٹ گیا شیوۂ تسلیم و رضا میرے بعدNabiul Hasan Shamim
  18. محو کر ڈالے گی اک دن حسن کی شہرت مجھےغیر تجھ کو دیکھتے ہیں ہوتی ہے حیرت مجھےNabiul Hasan Shamim
  19. موت ہے تیرے مریضوں کو شفا ہو جاناقہر ہے قید مصائب سے رہا ہو جاناNabiul Hasan Shamim
  20. ہماری طرز شکایت کسی کو کیا معلومتمہارا رنگ طبیعت کسی کو کیا معلومNabiul Hasan Shamim
  21. ہمیں سفینۂ ہستی کا رہنما نہ ملاخدا کو ساتھ لیا کوئی ناخدا نہ ملاNabiul Hasan Shamim
  22. ایک عاشق با وفا اور ایک محبوبہ حسیںکر رہے ہیں دونوں باہم گفتگوئے دل نشیںNabiul Hasan Shamim
  23. روکش چرخ یہی گوشۂ جنت ہے یہیچشم اغیار میں آئینۂ حیرت ہے یہیNabiul Hasan Shamim
  24. اک شخص جواں خاک بسر یاد تو ہوگاوہ اپنی نگاہوں کا اثر یاد تو ہوگانہال سیوہاروی
  25. بہار کا روپ بھی نگاہوں میں اک فریب بہار سا ہےحیات میں دل کشی نہیں ہے حیات میں انتشار سا ہےنہال سیوہاروی
  26. چارہ فرمائی دل رسم بتاں ہے تو سہیابھی کچھ مہر و محبت کا نشاں ہے تو سہینہال سیوہاروی
  27. دل نا مطمئن اندیشۂ برق تپاں میں ہےجو بے تابی قفس میں تھی وہی اب آشیاں میں ہےنہال سیوہاروی
  28. رابطہ ہے مجھے شیشے سے نہ پیمانے سےپھر وہ کیا بات ہے منسوب ہوں مے خانے سےنہال سیوہاروی
  29. زندگی زہر کا اک جام ہوئی جاتی ہےکیا سے کیا یہ مے گلفام ہوئی جاتی ہےنہال سیوہاروی
  30. گرمئ عشق کے بغیر لطف حیات رائیگاںعشق ہے زندگی کا روپ عشق سے زندگی جواںنہال سیوہاروی
  31. واہ فسون آب و گلدہر ہے اک رنگیں محفلنہال سیوہاروی
  32. ہوں کالبد خاک میں مہماں کوئی دن اورقسمت میں ہے پابندیٔ زنداں کوئی دن اورنہال سیوہاروی
  33. اڑا لیے ہیں کچھ ارباب گلستاں نے تو کیاہزار شیوۂ نو ہیں مری فغاں کے لیےنہال سیوہاروی
  34. جنوں تعلیم کچھ فرما رہا ہےخرد کا ساتھ چھوٹا جا رہا ہےنہال سیوہاروی
  35. عہد حاضر میں عیار صبح تو بدلا مگراے اندھیری رات تجھ کو بھی بدلنا چاہیئےنہال سیوہاروی
  36. یہی بے لوث محبت یہی غم خوارئ خلقاور معراج کسے کہتے ہیں انسانوں کینہال سیوہاروی
  37. آئے ہیں فاتحہ کو وہ گیسو سنوار کےچمکے نصیب آج ہمارے مزار کےنشتر چھپروی
  38. اک غیر کہ محفل سے اٹھایا نہیں جاتااک میں کہ کبھی ساتھ بٹھایا نہیں جاتانشتر چھپروی
  39. ان کی باتوں کو کچھ قیام نہیںصبح کہتے ہیں ہاں تو شام نہیںنشتر چھپروی
  40. تم ہجر کے جھگڑوں کو مٹا کیوں نہیں دیتےبگڑی ہوئی تقدیر بنا کیوں نہیں دیتےنشتر چھپروی
  41. جب عشق کا جنوں مرے سر پر سوار تھادل کو قرار تھا نہ جگر کو قرار تھانشتر چھپروی
  42. درد وہ تو نے دیا جس کا مداوا نہ ہواتیرا بیمار مسیحا سے بھی اچھا نہ ہوانشتر چھپروی
  43. عبث فکر دوا میں ہے پریشاں چارہ گر میرامرا سر جائے گا تو جائے گا یہ درد سر میرانشتر چھپروی
  44. کیا بچے دل جان لیوا اس کا ہر انداز ہےغمزہ ہے عشوہ ہے شوخی ہے ادا ہے ناز ہےنشتر چھپروی
  45. میں کیا کہوں کہ حال ہے کیا ہجر یار میںدل اختیار میں نہ جگر اختیار میںنشتر چھپروی
  46. نہ بکھرایا کرو تم بیٹھے بیٹھے زلف پیچاں کوخدا کے واسطے دیکھو مرے حال پریشاں کونشتر چھپروی
  47. وہ بھی کیا دن تھے کہ جب چاہ نہ تھی پیار نہ تھاہجر کا رنج نہ تھا عشق کا آزار نہ تھانشتر چھپروی
  48. تیر مژگاں کو تو پیکان قضا کہتے ہیںپر نگاہ غلط انداز کو کیا کہتے ہیںنشتر چھپروی
  49. نہ جس میں آرزو ہوتی نہ جس میں مدعا ہوتامجھے بھی ایک دل یا رب کوئی ایسا دیا ہوتانشتر چھپروی
  50. آج صیاد نے بھولے سے چمن دکھلایامیری تقدیر نے پھر مجھ کو وطن دکھلایانسیم میسوری