ایک عاشق با وفا اور ایک محبوبہ حسیں

Nabiul Hasan Shamim

ایک عاشق با وفا اور ایک محبوبہ حسیں

کر رہے ہیں دونوں باہم گفتگوئے دل نشیں

کہہ رہا ہے عاشق صادق بصد رنج و ملال

میں تمہارا ہو گیا ہوں چھوڑ کر دنیا و دیں

سر نہ اٹھا آج تک اپنا یہ ہے شان نیاز

مدتوں سے ہے تمہارا آستاں میری جبیں

ہو گئے ہیں سب جدا اللہ ری یہ بیکسی

کوئی ہمدم ہے نہ کوئی غم گسار و ہم نشیں

پھر ہمیشہ کے لئے خاموش ہو جاؤں گا میں

اور کچھ دن گر یہی بے مہریاں مجھ سے رہیں

اک نگاہ لطف سے محروم رکھا ہے مجھے

اس سے بڑھ کر اور توہین وفا ممکن نہیں

آج دنیا میں نہیں تم سا ستم گر مست ناز

ہر ارادہ رنج دہ ہر آرزو ظلم آفریں

داستان رنج و غم جب سن چکی وہ نازنیں

ناز سے بولی کہ یہ سب سچ ہے ہاں اے نکتہ چیں

آخری اک امتحاں ہے اس سے یہ ثابت کرو

ہم سے بڑھ کر کوئی دنیا میں تمہیں پیارا نہیں

اپنی ماں کا دل جو تم لاؤ گے سینہ چیر کر

آئے گا اس وقت ہم کو ایسی باتوں کا یقیں

ہو گیا خاموش عاشق سن کے یہ حکم عجیب

گھر کو پہنچا مضطرب با چشم تر اندوہگیں

ماں کی الفت پر ہوئی غالب محبت یار کی

وہ کیا اس نے جو دنیا میں کوئی کرتا نہیں

لے کے دل اور لاش ماں کی چھوڑ کر جب وہ چلا

کانپ اٹھی ساری زمیں تھرا گیا چرخ بریں

اتفاقاً اس کو گھبراہٹ میں اک ٹھوکر لگی

گر پڑا بے ہوش ہو کر عاشق صادق وہیں

قلب مادر سے تڑپ کر یہ صدا نکلی شمیمؔ

میں ترے قربان بیٹا چوٹ تو آئی نہیں