وہ بھی کیا دن تھے کہ الفت کا سبق یاد نہ تھا
محمود رامپوریوہ بھی کیا دن تھے کہ الفت کا سبق یاد نہ تھا
درد ہمدرد نہ تھا غم مرا ہم زاد نہ تھا
غیر پر ہی تجھے منظور تھی ناوک فگنی
کیا سزاوار ہدف یہ دل ناشاد نہ تھا
تجھ کو لازم تھا عیادت میں دکھانا آنکھیں
ایسے بیمار کو جو قابل فریاد نہ تھا
جب پسند آ گیا ان کو تو میں قیمت کیا لوں
میں سمجھ لوں گا کہ میرا دل ناشاد نہ تھا
بول اٹھے آج وہ خود اپنی زباں سے محمودؔ
سب میں اک تو ہی فقط شاکیٔ بیداد نہ تھا