زخم پیکان ستم لایق اظہار نہیں

Nabiul Hasan Shamim

زخم پیکان ستم لایق اظہار نہیں

ہم کو منظور علاج دل بیمار نہیں

دل مرا دیکھ کے کہتے ہیں کہ درکار نہیں

یہ بھی اک حسن طلب ہے کہ طلب گار نہیں

اک وفا ہے کہ انہیں یاد دلاتی ہے مری

اک یہی بات ہے جس سے انہیں انکار نہیں

مائل شوق اسیری ہے رہائی کیا ہے

وہ بھی آزاد نہیں ہے جو گرفتار نہیں

بے نیازی کی عجب شان ہے اللہ اللہ

اس کی دنیا ہے جو دنیا کا طلب گار نہیں

قید ہستی سے رہا ہوتا ہے تیرا وحشی

سانس زنجیر ہے اس کا بھی روادار نہیں

آتش عشق میں جلنے کو ہوا ہوں پیدا

ایک ذرہ بھی مری خاک کا بے کار نہیں

چشم ساقی کے اشاروں پہ نگاہیں رکھے

میکدے والوں میں اتنا کوئی ہشیار نہیں

بند کی آنکھ تو پھر ہم ہیں نہ دنیا ہے شمیمؔ

سفر منزل ہستی کوئی دشوار نہیں