دنیا کی خواہشات میں الجھا نہیں ہوں میں

Nabiul Hasan Shamim

دنیا کی خواہشات میں الجھا نہیں ہوں میں

اڑ جائے جو ہوا میں وہ تنکا نہیں ہوں میں

بیمار ان کو دیکھ کے خاموش ہو گیا

اتنا کہا زبان سے اچھا نہیں ہوں میں

آتا ہے مجھ کو مرکز توحید کا خیال

منہ سے نکل نہ جائے کہ بندہ نہیں ہوں میں

ہر دم یہی دعا ہے کہ بیتابیاں رہیں

یہ حال ہو گیا ہے کہ اپنا نہیں ہوں میں

آساں نہیں ہے میری حقیقت کو جاننا

مل جائے جو سبھوں کو وہ رستہ نہیں ہوں میں

میرے ہی دم سے ہے یہ مرے دل کی بیکلی

اپنے مرض کا آپ مداوا نہیں ہوں میں

ہے عافیت میں جان جو ملتا نہیں کوئی

اچھا ہے یہ شمیمؔ کہ اچھا نہیں ہوں میں