پابندیٔ راحت مجھے منظور نہیں ہے

Nabiul Hasan Shamim

پابندیٔ راحت مجھے منظور نہیں ہے

میں خوش ہوں کہ فطرت مری مجبور نہیں ہے

بالیں پہ ضیائے‌ رخ پر نور نہیں ہے

اب کوئی علاج دل رنجور نہیں ہے

اب کوئی جگہ حسن سے معمور نہیں ہے

اس دل کے سوا اور کوئی طور نہیں ہے

کرنا جو پڑے منت اغیار عجب کیا

یہ بھی مری تقدیر سے کچھ دور نہیں ہے

میں نے جو کہا جیتا ہوں امید وفا پر

فرمایا زمانے کا یہ دستور نہیں ہے

مرنے کی تمنا ہو کہ جینے کی ہو خواہش

اک بات بھی میری نہیں منظور نہیں ہے

ہم دیر سے ہوتے ہوئے اے شیخ چلیں گے

اس راہ سے کعبہ بھی کوئی دور نہیں ہے

او بت ترا پتھر کا کلیجا بھی ہو پانی

اللہ کی قدرت سے یہ کچھ دور نہیں ہے

پیمانہ بھرے دیتی ہیں ساقی کی نگاہیں

وہ آنکھ نہیں آج جو مخمور نہیں ہے

کیا روز دکھاتا ہے نہ جانے یہ دل زار

اب تک تو شمیمؔ آپ کا مشہور نہیں ہے