موت ہے تیرے مریضوں کو شفا ہو جانا

Nabiul Hasan Shamim

موت ہے تیرے مریضوں کو شفا ہو جانا

قہر ہے قید مصائب سے رہا ہو جانا

ہائے مشتاق شہادت سے خفا ہو جانا

تیغ کا قسمت ارباب وفا ہو جانا

اہل دنیا مری قسمت فلک ناہنجار

سب تو روٹھے ہیں کہیں تم نہ خفا ہو جانا

سب جفاؤں کی تلافی ہے ستم کش کے لئے

تم سے وعدہ کوئی بھولے سے وفا ہو جانا

اپنی حالت کی خبر کچھ نہیں اچھا ہے یہی

باعث مرگ ہے احساس بقا ہو جانا

بہر تسکین دل زار یہی کافی ہے

شکوۂ جور پہ اقرار وفا ہو جانا

آتش رشک سے یہ شوق جلاتا ہے مجھے

اس ستم گار کا پابند جفا ہو جانا

جاننا اپنی حقیقت کا بہت مشکل ہے

سر مکتوم ہے بندہ کا خدا ہو جانا

اب لب یار پہ پرشش ہے تمنا کی شمیمؔ

کام آیا مرا راضی بہ رضا ہو جانا