مانا کہ سخت ہوتی ہے تیر و تبر کی چوٹ

محمود رامپوری

مانا کہ سخت ہوتی ہے تیر و تبر کی چوٹ

لیکن بری بلا ہے کسی کی نظر کی چوٹ

تیغ ادا کا وار ہے تیر نظر کی چوٹ

دل کی بچاؤں ضرب کہ روکوں جگر کی چوٹ

بڑھ کر ہے زخم تیغ سے بھی زخم بات کا

یہ چار دن کی چوٹ ہے وہ عمر بھر کی چوٹ

سینے سے وہ ملے تو نظر سے نظر ملی

دل کا بھرا جو زخم تو ابھری جگر کی چوٹ

احساں کا بار صاحب ہمت کی موت ہے

میری دعا قبول کرے کیوں اثر کی چوٹ

درد انتہا کا دل میں ہے محمودؔ آج تک

کھائی تھی ابتدا میں کسی کی نظر کی چوٹ