جب عشق کا جنوں مرے سر پر سوار تھا

نشتر چھپروی

جب عشق کا جنوں مرے سر پر سوار تھا

دل کو قرار تھا نہ جگر کو قرار تھا

دل بے قرار تھا نہ جگر بے قرار تھا

تیرا خیال پاس شب انتظار تھا

پھولوں کے ہار تربت اغیار پر چڑھے

مشق ستم کے واسطے میرا مزار تھا

کیوں کر نہ دیتے غم کو ترے دل میں ہم جگہ

فرقت میں اپنا ایک ہی تو غم گسار تھا

وہ پائمال کر کے مرے دل کو کہتے ہیں

یہ دل وہی ہے ہجر میں جو بے قرار تھا

ملتا نہ تھا مزاج دل بے قرار کا

تیر نگاہ ناز کا جب وہ شکار تھا

میں کیا کہوں کہ حال مرا کیا تھا ہجر میں

دن رات لب پہ نالۂ بے اختیار تھا

اب دل ہے اور ذلت و رسوائیٔ جنوں

نشترؔ کبھی یہ مایۂ صد افتخار تھا