دل سوز غم سے جلتا ہے لب پر فغاں نہیں
محمود رامپوریدل سوز غم سے جلتا ہے لب پر فغاں نہیں
یہ آگ بھی نئی ہے کہ جس میں دھواں نہیں
دل میں وہ ضبط غم ہے کہ لب پر فغاں نہیں
منہ میں ہے وہ زبان کہ گویا زباں نہیں
اللہ رے بے خودی کہ مجھے خود شب فراق
کھلتا نہیں کہ درد کہاں ہے کہاں نہیں
پر باندھنے سے فائدہ فصل بہار میں
صیاد یہ قفس ہے مرا آشیاں نہیں
اردو زباں کا لطف گیا ساتھ داغؔ کے
محمودؔ اب وہ رنگ وہ طرز بیاں نہیں