پرتو رخ ہے آئنہ کیا ہے

Nabiul Hasan Shamim

پرتو رخ ہے آئنہ کیا ہے

آپ اپنے کو دیکھتا کیا ہے

بس یہی اک نگاہ لطف و کرم

آپ سے اور التجا کیا ہے

رہنے دو منہ مرا نہ کھلواؤ

ایسی باتوں سے فائدہ کیا ہے

مری ہستی ہے مورد آلام

موت آ جائے تو برا کیا ہے

کھچ کے چلتے ہیں خود ترے ناوک

دل بیتاب کی خطا کیا ہے

ابتدا جس کی موت ہے یا رب

ایسی الفت کی انتہا کیا ہے