محو کر ڈالے گی اک دن حسن کی شہرت مجھے

Nabiul Hasan Shamim

محو کر ڈالے گی اک دن حسن کی شہرت مجھے

غیر تجھ کو دیکھتے ہیں ہوتی ہے حیرت مجھے

عشق کی راہیں ہیں طے کرنی کسی صورت مجھے

منزلیں دشوار ہیں اللہ دے ہمت مجھے

حشر کے دن بھی گناہوں سے نہ ہوں گا شرمسار

منہ چھپانے کو ملے گا دامن رحمت مجھے

میں پس دیوار بیٹھا ہوں سکون قلب سے

جیتے جی دنیا میں گویا مل گئی جنت مجھے

کوئی رہنا چاہئے دست جنوں کا مشغلہ

لے تو آئی ہے بیاباں میں مری وحشت مجھے

زندگی تو کاوشوں میں ہی کٹی اپنی شمیمؔ

قبر میں لے جائے گی اب خواہش راحت مجھے