غم فرقت سہا نہیں جاتا
محمود رامپوریغم فرقت سہا نہیں جاتا
روز مر کر جیا نہیں جاتا
خضر سے بھی رہ محبت میں
ساتھ میرے چلا نہیں جاتا
ہو گئی ضعف کی بھی حد دل میں
درد سے بھی اٹھا نہیں جاتا
اب یہ صورت ہے میرے رونے پر
غیر سے بھی ہنسا نہیں جاتا
قبر میں ساتھ ہے تری حسرت
ورنہ تنہا رہا نہیں جاتا
اب تو ہم سے ترے بغیر ملے
خاک میں بھی ملا نہیں جاتا
دل تو جاتا ہے شوق میں تیرے
شوق دل سے ترا نہیں جاتا
کتنا کم ظرف ہے ترا پیکاں
خون دل بھی پیا نہیں جاتا
وہ تو جاتے ہیں دل سے اے غم یار
تو بھی جاتا ہے یا نہیں جاتا
اب تو یہ حال ہے کہ ان سے بھی
حال میرا سنا نہیں جاتا
وہ امنگیں نہیں مگر محمودؔ
تاکنا جھانکنا نہیں جاتا