Poetry
Poet
Meter
- تیری کماں کے بس سے بھی آگے نکل گیامیں عشق میں ہوس سے بھی آگے نکل گیاHabib.I.Kinkhabwala
- فوٹو کو اس نے پھاڑ کے ٹیبل پہ رکھ دیاتو میں نے منہ بگاڑ کے ٹیبل پہ رکھ دیاHabib.I.Kinkhabwala
- کتنی عجیب بات ہے تیرے بنا مجھےہر چیز لطف دینے لگی ہے ذرا مجھےHabib.I.Kinkhabwala
- کوئی اچھا نہیں خانداں میں مرےڈور بھڑتی رہی آسماں میں مرےHabib.I.Kinkhabwala
- مجھے تو قید سے اپنی رہائی کیوں نہیں دیتااگر تو ہے جدا تو پھر جدائی کیوں نہیں دیتاHabib.I.Kinkhabwala
- میں نے تمام عمر کا خاکہ نگل لیادو پل کی بھاگ دوڑ میں رستا نگل لیاHabib.I.Kinkhabwala
- وگرنہ رات تھی گہری ازل سےنکالا چاند کو ہم نے بغل سےHabib.I.Kinkhabwala
- ہوا کی نظر سے بچا آتے آتےکہیں بجھ نہ جائے دیا آتے آتےHabib.I.Kinkhabwala
- ازل سے بادۂ ہستی کی ارزانی نہیں جاتیاس ارزانی پہ بھی اس کی فراوانی نہیں جاتیJagdish Sahay Saxena
- اہل دنیا نے سکھایا مجھے حیراں ہوناکیسے انساں ہیں کہ آتا نہیں انساں ہوناJagdish Sahay Saxena
- تائب نہیں ہوں بے خود و سرشار بھی نہیںجو اس طرح پیے وہ گنہ گار بھی نہیںJagdish Sahay Saxena
- ترے میخانے میں ایسے بہت مے خوار بیٹھے ہیںمع ہستی جو پی کر ساقیا بیزار بیٹھے ہیںJagdish Sahay Saxena
- تو بھی وہاں نہیں محبت جہاں نہیںہر آستان حسن ترا آستاں نہیںJagdish Sahay Saxena
- راحت کونین وصل جسم و جاں سمجھا تھا میںزندگی کو سود مرنے کو زیاں سمجھا تھا میںJagdish Sahay Saxena
- شکر کی جا ہے کہ پستی میں یہیں تک پہنچےآسماں سے جو گرے ہم تو زمیں تک پہنچےJagdish Sahay Saxena
- عشق کے اعجاز سے تسکیں کا ساماں ہو گئیںاب جفائیں بھی نوازش ہائے پنہاں ہو گئیںJagdish Sahay Saxena
- فرط الم سے آہ کئے جا رہا ہوں میںاے عشق کیا گناہ کیے جا رہا ہوں میںJagdish Sahay Saxena
- کبھی گردش فلک سے نہ میں بے قرار ہوتاغم عشق اگر جہاں میں مرا غم گسار ہوتاJagdish Sahay Saxena
- کہتا یہی غبار سر رہ گزار ہےلینا قدم ہر اک کے ہمارا شعار ہےJagdish Sahay Saxena
- یہ سیم و زر تو ہیں آسائش جہاں کے لیےمجھے ہے غم کی ضرورت سکون جاں کے لیےJagdish Sahay Saxena
- کیوں نہ اپنی ہستیٔ ناشاد کا شکوا کروںرنج و غم گھیرے ہوں جب مجھ کو تو میں بھی کیا کروںJagdish Sahay Saxena
- اپنی عظمت کا نگہبان نہیں ہے کوئیکیا اب اس دور میں انسان نہیں ہے کوئیLaiq Siddiqi
- حسرت دل نکل بھی سکتی ہےزندگی رخ بدل بھی سکتی ہےLaiq Siddiqi
- دل ناداں یہ الفت کا سفر ہےیہاں منزل نہیں بس رہ گزر ہےLaiq Siddiqi
- دن ملے رات ملے صبح ملے شام ملےعشق صادق ہو تو تکلیف میں آرام ملےLaiq Siddiqi
- زندگی ناز کرے جس پہ وہ پہچان بنےدیکھیے آج کا انسان کب انسان بنےLaiq Siddiqi
- کون بتلائے کہ کس کو کیا ملاجس کی قسمت میں جو لکھا تھا ملاLaiq Siddiqi
- منہ اندھیرے چمنستان کا پیکر لے کرکون گزرا ہے دبے پاؤں گل تر لے کرLaiq Siddiqi
- موت جادہ ہے موت منزل ہےموت ہی زندگی کا حاصل ہےLaiq Siddiqi
- وفا سے آشنا کوئی نہیں ہےاگرچہ بے وفا کوئی نہیں ہےLaiq Siddiqi
- یہ دیکھ زندگی کے لئے ہے پیام کیادن کیا ہے رات کیا ہے سحر کیا ہے شام کیاLaiq Siddiqi
- سحر نے مسرت کا نغمہ سنایافضا نے گلستاں کا دامن سجایاLaiq Siddiqi
- گلشن زیست پہ پر کیف گھٹا چھائی ہےرخ پہ ہر پھول کے اک حسن ہے رعنائی ہےLaiq Siddiqi
- موسم بہت حسیں ہے فضا خوش گوار ہےہر رنگ کو مزاج چمن سازگار ہےLaiq Siddiqi
- آنکھ اٹھائی نہیں وہ سامنے سو بار ہوئےہجر میں ایسے فرامش گر دیدار ہوئےمفتی صدر الدین خان آزردہ
- اک بات پر بگڑے گئے نہ جو عمر بھر ملےاس سے طریق صلح کے کیا صلح گر ملےمفتی صدر الدین خان آزردہ
- اگر ہم نہ تھے غم اٹھانے کے قابلتو کیوں ہوتے دنیا میں آنے کے قابلمفتی صدر الدین خان آزردہ
- پلا ساقیا مئے خنک آب میںکہ تھمتی نہیں توبہ مہتاب میںمفتی صدر الدین خان آزردہ
- شب جوش گریہ تھا مجھے یاد شراب میںتھا غرق میں تصور آتش سے آب میںمفتی صدر الدین خان آزردہ
- کیا جانو جو اثر ہے دم شعلہ تاب میںیہ وہ ہے برق آگ لگا دے نقاب میںمفتی صدر الدین خان آزردہ
- مجھ سا بھی کوئی عشق میں ہے بد گماں نہیںکیا رشک دیکھ کر مجھے رنگ خزاں نہیںمفتی صدر الدین خان آزردہ
- نالوں سے میرے کب تہ و بالا جہاں نہیںکب آسماں زمین و زمیں آسماں نہیںمفتی صدر الدین خان آزردہ
- نکلنا ہو دل سے دشوار کیوںیہ اک آہ ہے اس کا پیکاں نہیںمفتی صدر الدین خان آزردہ
- ہے مفت دل کی قیمت اگر اک نظر ملےیہ وہ متاع ہے کہ نہ لیں مفت اگر ملےمفتی صدر الدین خان آزردہ
- یہ کہہ کے رخنہ ڈالئے ان کے حجاب میںاچھے برے کا حال کھلے گا نقاب میںمفتی صدر الدین خان آزردہ
- کاش مقبول ہو دعائے عدوکیا کروں وہ بھی مستجاب نہیںمفتی صدر الدین خان آزردہ
- فغان دہلیمفتی صدر الدین خان آزردہ
- جور کب تک سہا کرے کوئیصبر کب تک کیا کرے کوئیمحمود رامپوری
- جہاں نہ دوست نہ گلچیں نہ باغباں میراپھر اس چمن میں رہے کیونکر آشیاں میرامحمود رامپوری
- خدا کی شان ہے ان میں اگر مہر و وفا ہوتیتو پھر یہ بت جدھر ہوتے ادھر خلق خدا ہوتیمحمود رامپوری