Poetry

Poet
Meter
  1. تیری کماں کے بس سے بھی آگے نکل گیامیں عشق میں ہوس سے بھی آگے نکل گیاHabib.I.Kinkhabwala
  2. فوٹو کو اس نے پھاڑ کے ٹیبل پہ رکھ دیاتو میں نے منہ بگاڑ کے ٹیبل پہ رکھ دیاHabib.I.Kinkhabwala
  3. کتنی عجیب بات ہے تیرے بنا مجھےہر چیز لطف دینے لگی ہے ذرا مجھےHabib.I.Kinkhabwala
  4. کوئی اچھا نہیں خانداں میں مرےڈور بھڑتی رہی آسماں میں مرےHabib.I.Kinkhabwala
  5. مجھے تو قید سے اپنی رہائی کیوں نہیں دیتااگر تو ہے جدا تو پھر جدائی کیوں نہیں دیتاHabib.I.Kinkhabwala
  6. میں نے تمام عمر کا خاکہ نگل لیادو پل کی بھاگ دوڑ میں رستا نگل لیاHabib.I.Kinkhabwala
  7. وگرنہ رات تھی گہری ازل سےنکالا چاند کو ہم نے بغل سےHabib.I.Kinkhabwala
  8. ہوا کی نظر سے بچا آتے آتےکہیں بجھ نہ جائے دیا آتے آتےHabib.I.Kinkhabwala
  9. ازل سے بادۂ ہستی کی ارزانی نہیں جاتیاس ارزانی پہ بھی اس کی فراوانی نہیں جاتیJagdish Sahay Saxena
  10. اہل دنیا نے سکھایا مجھے حیراں ہوناکیسے انساں ہیں کہ آتا نہیں انساں ہوناJagdish Sahay Saxena
  11. تائب نہیں ہوں بے خود و سرشار بھی نہیںجو اس طرح پیے وہ گنہ گار بھی نہیںJagdish Sahay Saxena
  12. ترے میخانے میں ایسے بہت مے خوار بیٹھے ہیںمع ہستی جو پی کر ساقیا بیزار بیٹھے ہیںJagdish Sahay Saxena
  13. تو بھی وہاں نہیں محبت جہاں نہیںہر آستان حسن ترا آستاں نہیںJagdish Sahay Saxena
  14. راحت کونین وصل جسم و جاں سمجھا تھا میںزندگی کو سود مرنے کو زیاں سمجھا تھا میںJagdish Sahay Saxena
  15. شکر کی جا ہے کہ پستی میں یہیں تک پہنچےآسماں سے جو گرے ہم تو زمیں تک پہنچےJagdish Sahay Saxena
  16. عشق کے اعجاز سے تسکیں کا ساماں ہو گئیںاب جفائیں بھی نوازش ہائے پنہاں ہو گئیںJagdish Sahay Saxena
  17. فرط الم سے آہ کئے جا رہا ہوں میںاے عشق کیا گناہ کیے جا رہا ہوں میںJagdish Sahay Saxena
  18. کبھی گردش فلک سے نہ میں بے قرار ہوتاغم عشق اگر جہاں میں مرا غم گسار ہوتاJagdish Sahay Saxena
  19. کہتا یہی غبار سر رہ گزار ہےلینا قدم ہر اک کے ہمارا شعار ہےJagdish Sahay Saxena
  20. یہ سیم و زر تو ہیں آسائش جہاں کے لیےمجھے ہے غم کی ضرورت سکون جاں کے لیےJagdish Sahay Saxena
  21. کیوں نہ اپنی ہستیٔ ناشاد کا شکوا کروںرنج و غم گھیرے ہوں جب مجھ کو تو میں بھی کیا کروںJagdish Sahay Saxena
  22. اپنی عظمت کا نگہبان نہیں ہے کوئیکیا اب اس دور میں انسان نہیں ہے کوئیLaiq Siddiqi
  23. حسرت دل نکل بھی سکتی ہےزندگی رخ بدل بھی سکتی ہےLaiq Siddiqi
  24. دل ناداں یہ الفت کا سفر ہےیہاں منزل نہیں بس رہ گزر ہےLaiq Siddiqi
  25. دن ملے رات ملے صبح ملے شام ملےعشق صادق ہو تو تکلیف میں آرام ملےLaiq Siddiqi
  26. زندگی ناز کرے جس پہ وہ پہچان بنےدیکھیے آج کا انسان کب انسان بنےLaiq Siddiqi
  27. کون بتلائے کہ کس کو کیا ملاجس کی قسمت میں جو لکھا تھا ملاLaiq Siddiqi
  28. منہ اندھیرے چمنستان کا پیکر لے کرکون گزرا ہے دبے پاؤں گل تر لے کرLaiq Siddiqi
  29. موت جادہ ہے موت منزل ہےموت ہی زندگی کا حاصل ہےLaiq Siddiqi
  30. وفا سے آشنا کوئی نہیں ہےاگرچہ بے وفا کوئی نہیں ہےLaiq Siddiqi
  31. یہ دیکھ زندگی کے لئے ہے پیام کیادن کیا ہے رات کیا ہے سحر کیا ہے شام کیاLaiq Siddiqi
  32. سحر نے مسرت کا نغمہ سنایافضا نے گلستاں کا دامن سجایاLaiq Siddiqi
  33. گلشن زیست پہ پر کیف گھٹا چھائی ہےرخ پہ ہر پھول کے اک حسن ہے رعنائی ہےLaiq Siddiqi
  34. موسم بہت حسیں ہے فضا خوش گوار ہےہر رنگ کو مزاج چمن سازگار ہےLaiq Siddiqi
  35. آنکھ اٹھائی نہیں وہ سامنے سو بار ہوئےہجر میں ایسے فرامش گر دیدار ہوئےمفتی صدر الدین خان آزردہ
  36. اک بات پر بگڑے گئے نہ جو عمر بھر ملےاس سے طریق صلح کے کیا صلح گر ملےمفتی صدر الدین خان آزردہ
  37. اگر ہم نہ تھے غم اٹھانے کے قابلتو کیوں ہوتے دنیا میں آنے کے قابلمفتی صدر الدین خان آزردہ
  38. پلا ساقیا مئے خنک آب میںکہ تھمتی نہیں توبہ مہتاب میںمفتی صدر الدین خان آزردہ
  39. شب جوش گریہ تھا مجھے یاد شراب میںتھا غرق میں تصور آتش سے آب میںمفتی صدر الدین خان آزردہ
  40. کیا جانو جو اثر ہے دم شعلہ تاب میںیہ وہ ہے برق آگ لگا دے نقاب میںمفتی صدر الدین خان آزردہ
  41. مجھ سا بھی کوئی عشق میں ہے بد گماں نہیںکیا رشک دیکھ کر مجھے رنگ خزاں نہیںمفتی صدر الدین خان آزردہ
  42. نالوں سے میرے کب تہ و بالا جہاں نہیںکب آسماں زمین و زمیں آسماں نہیںمفتی صدر الدین خان آزردہ
  43. نکلنا ہو دل سے دشوار کیوںیہ اک آہ ہے اس کا پیکاں نہیںمفتی صدر الدین خان آزردہ
  44. ہے مفت دل کی قیمت اگر اک نظر ملےیہ وہ متاع ہے کہ نہ لیں مفت اگر ملےمفتی صدر الدین خان آزردہ
  45. یہ کہہ کے رخنہ ڈالئے ان کے حجاب میںاچھے برے کا حال کھلے گا نقاب میںمفتی صدر الدین خان آزردہ
  46. کاش مقبول ہو دعائے عدوکیا کروں وہ بھی مستجاب نہیںمفتی صدر الدین خان آزردہ
  47. فغان دہلیمفتی صدر الدین خان آزردہ
  48. جور کب تک سہا کرے کوئیصبر کب تک کیا کرے کوئیمحمود رامپوری
  49. جہاں نہ دوست نہ گلچیں نہ باغباں میراپھر اس چمن میں رہے کیونکر آشیاں میرامحمود رامپوری
  50. خدا کی شان ہے ان میں اگر مہر و وفا ہوتیتو پھر یہ بت جدھر ہوتے ادھر خلق خدا ہوتیمحمود رامپوری