آرزوئے دل صد چاک ہے درماں ہونا

Nabiul Hasan Shamim

آرزوئے دل صد چاک ہے درماں ہونا

یعنی کچھ اور تری تیغ کا احساں ہونا

موت آنا ہے غم ہجر کا درماں ہونا

یہ وہ مشکل ہے کہ آسان نہیں آساں ہونا

مقصد زیست ہے قرباں بہ دل و جاں ہونا

نام احساس فرائض کا ہے انساں ہونا

بن گئے طائر تصویر قفس میں آ کر

راس آیا نہ اسیروں کو خوش الحاں ہونا

رہ گئی اب تو یہی ایک عبادت اپنی

یاد کر کر کے گناہوں کو پشیماں ہونا

باعث مرگ ہوئی جوشش شوق بسمل

اس کی قسمت میں نہ تھا آپ کا احساں ہونا

آئنہ دار حقیقت ہے خوشا جوش جنوں

ذرہ ذرہ کا بیاباں کے بیاباں ہونا

میری بالیں پہ نہ بیٹھو کہ بہت مشکل ہے

جان سے دور شریک غم پنہاں ہونا

مسکرا کر یہ پس قتل بھی کہتا ہے شمیمؔ

وہ بھی ہو جائے جو باقی ہے مری جاں ہونا