روکش چرخ یہی گوشۂ جنت ہے یہی
Nabiul Hasan Shamimروکش چرخ یہی گوشۂ جنت ہے یہی
چشم اغیار میں آئینۂ حیرت ہے یہی
مہربانی پہ ہے وہ قبلۂ حاجات بہت
اس نے پھیلائے ہیں قدرت کے عطیات بہت
زر لٹانے کو کلی گل کی نکلتی ہے یہاں
ہے یہ مشہور زمیں سونا اگلتی ہے یہاں
خوش فرشتے بھی ہیں ذروں کا تماشا کر کے
پھینک دیتے ہیں یہاں چاند کو چورا کر کے
ظاہری آنکھوں میں پنہاں ہیں بلا کے جلوے
پتھروں میں نظر آتے ہیں خدا کے جلوے
ساز کا لطف ہے ہر سانس میں سنتے ہیں رباب
دل کے پیمانوں میں ملتی ہے حقیقت کی شراب
نہ شرافت کی کمی اور نہ دولت کی کمی
ہے سپوتوں میں مگر ماں کی محبت کی کمی
بادل ادبار کے ہیں ان کے سروں پر چھائے
مرنا آئے نہ انہیں اور نہ جینا آئے
تنگ دستی بھی ہے فاقے بھی ہیں بیکاری بھی
اور امراض بھی ہیں عقل کی بیماری بھی
گرتے جاتے ہیں سنبھلنے کی کوئی آس نہیں
گو سفر دور کا درپیش ہے کچھ پاس نہیں
ایک ہنگامے پہ موقوف نہ پیکار کریں
اب ضرورت ہے کہ ہر کام میں ایثار کریں